کچہرہ کنڈیوں کا خاتمہ ، نیا منصوبہ تیار ، عوام میں شعور بیداری کی تجویز
حیدرآباد۔ شہر میں ختم سال تک کہیں کوئی کچہرہ کنڈی نظر نہیں آئے گی اور بلدیہ کی جانب سے سڑک پر کچہرہ ڈالنے کی صورت میں سخت کاروائی کی جائے گی۔ جی ایچ ایم سی کے شعبۂ صفائی و صحت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے حدود میں موجود کچہرہ کنڈیوں کو برخواست کرنے کے لئے گذشتہ 5برسوں سے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس مدت کے دوران زیر زمین کچہرہ کنڈیوں کا منصوبہ بھی منظر عام پر لایا گیا لیکن ان منصوبوں پر عمل نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے شہر کی کئی سڑکوں پر اب بھی کچہرہ کنڈی موجود ہیں اور کچہرہ کنڈی سے زیادہ کچہرہ کنڈی کے اطراف میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے سڑکوں پر گندگی‘ بدبو اور تعفن پایا جانا معمول بنتا جا رہاہے اسی لئے جاریہ سال کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کچہرہ کنڈیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں اقدامات کا فیصلہ کیا گیا او رکہا جا رہاہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے تیار کیا گیا منصوبہ ریاستی حکومت کے محکمہ بلدی نظم ونسق کو روانہ کیا جا چکا ہے اور حکومت کی منظوری کے ساتھ ہی شہر حیدرآبادسے کچہرہ کنڈیوں کو برخواست کرنے کا عمل شروع کردیا جائے گا ۔شہر حیدرآباد میں سڑکوں پر کچہرہ پھینکنے کے عمل کو روکنے کیلئے جی ایچ ایم سی نے سی سی کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جن مقامات پر کچہرہ ڈالا جاتا ہے ان مقامات کے قرب و جوار میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے ذریعہ ان کے کنکشن مقامی پولیس اسٹیشن کے علاوہ بلدی دفاتر میں فراہم کئے جائیں گے تاکہ جن لوگوں کی جانب سے کچہرہ پھینکا جا رہاہے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔بلدی عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے منظوری حاصل ہونے کے بعد اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے ہر گھر سے کچہرہ اٹھانے کے لئے باضابطہ آٹو ٹرالی چلائی جا رہی ہے اس کے باوجود بھی شہریوں کی جانب سے سڑکوں پر کچہرہ پھینکنے کی روایات کا خاتمہ نہیں ہورہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔سڑکوں پر کچہرہ پھینکنے والوں کے خلاف کاروائی کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیداری مہم چلانے اور انہیں اس بات سے واقف کروانے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ سڑکوں پر کچہرہ پھینکنے سے کیا نقصانات اور کتنی بیماریاں علاقہ میں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
