چیف منسٹر تلنگانہ گنگاجمنی تہذیب کے علمبردار: محمد فاروق حسین کا ادعا
حیدرآباد۔26 نومبر(سیاست نیوز) سیکریٹریٹ کی مساجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کے وعدہ کی تکمیل کے ذریعہ چیف منسٹر نے اپنے سیکولر کردار اور تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک و رواداری کی مثال قائم کی ہے۔جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اپنے بیان میں کہا کہ چیف منسٹر اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں پر من و عن عمل آوری کے حق میں ہیں اور ان تمام وعدوں کو پورا کیا جائے گا جو تشکیل تلنگانہ سے قبل ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں سے کئے گئے تھے لیکن اس کے لئے مناسب وقت اور حالات کا انتظار کر نا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے سیکولر کردار کو داغدار بنانے کی کوشش کرنے والوں کے لئے چیف منسٹر کی جانب سے سیکریٹریٹ کی مساجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کی ہدایات اور سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کرنے کے علاوہ اندرون ایک برس تعمیرات کو مکمل کرنے کی تاکید سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سیاسی فائدہ یا نقصان نہیں دیکھتے بلکہ ان کی جانب سے کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سیاسی نقصان برداشت کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو وعدے مسلمانوں سے کئے گئے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے ممکنہ حد تک اقدامات کئے جا رہے ہیں اور جہاں تک 12 فیصد تحفظات کے علاوہ وقف جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی بازیابی کا مسئلہ ہے حکومت کی جانب سے ان امور پر بھی سنجیدہ اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ جناب محمدفاروق حسین نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار ہیں اور وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات و احساسات سے بخوبی واقف ہیں علاوہ ازیں وہ مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے کے معاملہ سنجیدہ اور پختہ اقدامات کے حق میں ہیں اسی لئے وہ مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے معاملہ میں بھی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکریٹریٹ کی مساجد کے لئے 2کروڑ 90 لاکھ کی منظوری اور 1500 مربع گز اراضی کی حوالگی کے ساتھ مساجد کو سیکریٹریٹ ملازمین کے علاوہ عوام کے لئے کھلا رکھنے کے اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں تلنگانہ راشٹر سمیتی حکومت مساجد کو غیر آباد کرنے والوں کی نہیں ہے بلکہ مساجد کو آباد رکھنے والوں میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کا شمار ہوتا ہے۔م