سکریٹریٹ مساجد کی شہادت ، علماء کرام ، مشائخین عظام سے ملاقات

   

نام نہاد شخصیتوں کا گھیراؤ ، عہدوں سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھانے پریشر گروپ کا فیصلہ
حیدرآباد۔ شہر کے علماء اکرام ‘ مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں اور مشائخین عظام سے فکر مند شہریوں کے وفود ملاقات کا سلسلہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور این آر سی و سی اے اے کے احتجاج کے دوران جس طرح سے ان اہم نمائندہ شخصیات سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مسئلہ پر متوجہ کروانے کی کوشش کی گئی تھی اسی طرح سیکریٹریٹ کی مساجد کے علاوہ مسجد یکخانہ کے مسئلہ پر ان ذمہ داروں سے ملاقات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ جناب محمد فاروق کی زیر قیادت کی چلائی گئی اس مہم میں کئی اہم شخصیتیں موجود تھیں اور ان کی جانب سے اب دوبارہ یہ مہم چلانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور کہاجا رہاہے کہ اس گروپ نے سرکاری عہدے رکھنے والی مذہبی و عوامی تنظیموں کے ذمہ داروں کے گھیراؤ کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سیکریٹریٹ کی مسجد کی شہادت کے باوجود سرکاری عہدوں پر براجمان نام نہاد اہم شخصیتوں کے گھیراؤ کے علاوہ ان کے تنظیموں کے ذمہ داروں سے اس سلسلہ میں استفسار کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ سیکریٹریٹ کی مساجد کی شہادت کے علاوہ مسجد یکخانہ کی شہادت کے باوجود کسی بھی سرکاری عہدیدار نے اپنے عہدہ سے استعفی پیش نہیں کیا ہے بلکہ صرف اخباری بیان بازیوں پر اکتفاء کیا جا رہاہے جس سے عوام میں ان کے متعلق بدظنی پیدا ہونے لگی ہے ۔ شہر میں سی اے اے اور این آر سی کے دوران تیار کئے گئے اس پریشر گروپ کی جانب سے شہر کی سرکردہ شخصیات سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں عملی میدان میں آتے ہوئے نوجوانوں کی قیادت کی جانب مائل کیا جائے گا اور جو عہدوں پر فائز ہیں انہیں عہدوں سے مستعفی ہونے کے لئے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔بتایا جاتا ہے کہ شہر میں اس پریشر گروپ کی جانب سے احتجاجی لائحہ عمل کی تیاری کے بجائے سرکردہ شخصیتوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں احتجاجی منصوبہ تیار کرنے اور حکومت پردباؤ ڈالنے کیلئے زور دیا جائے گا تاکہ سیکریٹریٹ میں شہید کی گئی دونوں مساجد کے ساتھ مسجد یکخانہ عنبر پیٹ کی دوبارہ اسی جگہ پر تعمیر کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ شہر حیدرآباد میں مساجد کی شہادت کے بعد بھی ذمہ داران ملت اسلامیہ کی جانب سے اختیار کردہ موقف پر ملک بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جو لوگ بابری مسجد کے مسئلہ پر آواز اٹھا رہے ہیں وہ اپنے ہی شہر میں مساجد کی شہادت پر خاموش ہیں۔