اردو زبان کو جائز مقام دلوانے کے لیے فوری طور پر اقدامات ناگزیر
حیدرآباد۔7۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ سیکریٹریٹ میں اردو زبان کو اس کا جائز مقام دلوانے کے لئے فوری طور پر اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ ریاست تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی وزراء کے چیمبرس کے باہر لگائے گئے بورڈس سے اردو غائب ہوچکی ہے جبکہ تلنگانہ میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے۔ دفاتر معتمدی میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی عہدیداروں نے وزراء کے چیمبرس کے باہر موجود بورڈس کو تبدیل کیا لیکن ان پر وزراء کے نام اور عہدہ اردو میں تحریر نہیں کیا گیا جو کہ اردو زبان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اسی لئے مجاز عہدیداروں بالخصوص اردو آفیسرس جو خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں فوری طور پر اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں متوجہ کرواتے ہوئے تمام وزراء کے چیمبرس کے علاوہ سیکریٹریٹ میں جہاں کہیں اردو کا استعمال ممکن ہوسکتا ہو ان مقامات پر اردو بورڈ آویزاں کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ ریاست بھر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے موقف پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی حکومت نے تلنگانہ کے 10کے منجملہ 9 ریاستوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کیا تھا اور تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست تلنگانہ کے تمام 10 اضلاع میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اردو زبان کو فراہم کئے گئے موقف پر عمل آوری عہدیداروں کی ذمہ داری ہے اور عہدیداروں کی جانب سے اس ذمہ داری کو پورا نہ کئے جانے پر ارباب اقتدار کو ان کی باز پرس کرنی چاہئے ۔