7 جنوری کو ہائی کورٹ میں سماعت، کارکنوں سے تیار رہنے فیروز خاں کی اپیل
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر سے متعلق چیف منسٹر کے سی آر کے وعدوں پر عمل آوری کے لئے دباؤ میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی کے نامپلی انچارج فیروز خاں نے 8 جنوری کو سکریٹریٹ کے احاطہ میں مساجد کے مقام پر نماز جمعہ کی ادائیگی کا اعلان کیا اور کہا کہ کانگریس کارکنوں اور مسلمانوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی جائے گی ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خاں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل پر جدوجہد میں پیش پیش رہے ہیں۔ این آر سی ، این پی آر کے علاوہ سکریٹریٹ کی مساجد ، یکخانہ مسجد ، وقف بورڈ کے مسائل ، لاک ڈاؤن میں غریبوں کو امداد ، عثمانیہ ہاسپٹل کا تحفظ اور حالیہ سیلاب میں امدادی کاموں کے سلسلہ میں انہوں نے نمایاں رول ادا کیا۔ فیروز خاں نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں اور پھر ہندوستانی ہوں۔ کے سی آر نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں 15 اکتوبر کو مساجد کیلئے سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور مجلس آپسی سازش کے تحت عوام کو مساجد کے مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ دونوں پارٹیاں گمراہ کن وعدوں کے ذریعہ مسلمانوں میں الجھن پیدا کر رہی ہے۔ تین ماہ قبل ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے سکریٹریٹ کی مساجد میں 20 افراد کو نماز کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے آج تک حلفنامہ داخل نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے حلفنامہ کے ادخال کیلئے حکومت کو 7 جنوری تک کی مہلت دی ہے ۔ 7 جنوری کو اگر حکومت حلفنامہ داخل کرتی ہے تو فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آسکتا ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ اگر حکومت حلفنامہ داخل نہ کرے تو کانگریس پار ٹی 8 جنوری کو سکریٹریٹ میں نماز جمعہ ادا کرے گی ۔ انہوں نے مسلمانوں سے سکریٹریٹ کے قریب جمع ہونے کی اپیل کی۔