علمائے اکرام سے پہل کرنے کی اپیل، شیخ عبداللہ سہیل کا بیان
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکریٹریٹ کی دونوں مساجد کے مقام پر نماز جمعہ کی اجازت دی جائے۔ پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے اپنے بیان میں کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے سکریٹریٹ کی دونوں مساجد کے انہدام پر افسوس کا اظہار کیا اور دوبارہ تعمیر کا وعدہ کیا ہے، لہذا حکومت کو دونوں مساجد میں نماز جمعہ کے اہتمام پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مساجد کے انہدام تک بھی پنچ وقتہ نمازوں کا باقاعدگی سے اہتمام کیا جاتا رہا۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر دو بیانات جاری کئے ہیں جس میں حکومت کی جانب سے دوبارہ تعمیر کا وعدہ کیا گیا۔ مذہبی قائدین کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر چیف منسٹر نے دوبارہ تعمیر کا وعدہ کیا۔ لہذا وفد میں شامل مذہبی قائدین کو چاہئے کہ وہ 11 ستمبر کو سکریٹریٹ کی مساجد کے ملبہ پر نماز جمعہ ادا کریں ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے درست کہا ہے کہ اسلامی شریعت کے اعتبار سے جس مقام پر ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجائے وہ ہمیشہ مسجد برقرار رہتی ہے۔ مسلمانوں کو مساجد کی تعمیر نو کے لئے سنگ بنیاد کی تقریب کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے قبل ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ کانگریس قائد نے کہا کہ وزیر داخلہ محمود علی اور دیگر مسلم قائدین بشمول ارکان کونسل فرید الدین ، فاروق حسین اور صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کو نماز جمعہ میں شریک ہونا چاہئے ۔ کانگریس کے مسلم قائدین محمد علی شبیر ، فیروز خاں اور دیگر قائدین نماز جمعہ میں شرکت کے لئے تیار ہیں۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ مساجد کے مقام پر نمازوں کے آغاز سے عوام میں مثبت پیام جائے گا اور مساجد کی دوبارہ تعمیر کا یقین بڑھ جائے گا۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل قائدین سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ سکریٹریٹ کی مساجد میں نماز جمعہ کے آغاز کی مساعی کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹی آر ایس اور مجلس کے مسلم قائدین اس تجویز کی تائید کریں گے ۔