سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر نو کے کاموں کا عنقریب آغاز

   

Ferty9 Clinic

پلان اور تین کروڑ کی منظوری، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا مسلم نمائندوں کیساتھ اجلاس

حیدرآباد۔17 ۔اگست (سیاست نیوز) سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر نو کے مسئلہ پر تلنگانہ وقف بورڈ میں مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ مساجد کی تعمیر نو میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ تعمیری منصوبہ اور بجٹ کو منظوری دی جاچکی ہے اور بہت جلد تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسجد کے موجودہ مقام پر دو عالیشان مساجد کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے۔ وقف بورڈ نے مسجد کے پلان کو منظوری دیتے ہوئے محکمہ عمارات و شوارع کو روانہ کردیا جس کے ذریعہ تعمیری کام انجام دیا جائے گا ۔ اجلاس کے شرکاء کو پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ مسجد کے پلان سے واقف کرایا گیا ۔ 1500 مربع گز اراضی حکومت نے مساجد کے لئے وقف بورڈ کے حوالے کی ہے۔ مسرز آکار آرکیٹکچر نے مسجد کے پلان کو قطعیت دی ہے جس پر دو کروڑ 90 لاکھ روپئے کا خرچ آئے گا۔ پہلے مرحلہ میں ایک کروڑ کے خرچ سے مساجد کے گراؤنڈ فلور اور کمپاؤنڈ وال تعمیر کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلہ میں 1.90 کروڑ سے وضو خانے ، واش رومس اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ دونوں مساجد کے درمیان امام کے لئے رہائش گاہ تعمیر کی جائے گی۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سیکولر چیف منسٹر ہیں جو تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کی تعمیر نو کے سلسلہ میں مسلمانوں کو اندیشوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ محمد سلیم نے مسلم تنظیموں کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کے بجائے تحمل سے کام لیں کیونکہ تعمیری کاموں کا جلد آغاز ہوگا۔ اجلاس کے شرکاء نے صدرنشین وقف بورڈ کے تیقن پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو تعمیر نو کے کام جلد شروع کرنے چاہئے ۔ اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے محمد مشتاق ملک ، ایم پی جے کے صدر محمد عبدالعزیز ، تعمیر ملت کے صدر ضیاء الدین نیر ، محمد عبدالغفار ، سید آصف عمری اور دوسروں نے شرکت کی ۔ جماعت اسلامی ، جامعہ نظامیہ ، مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جمعیتہ العلماء اور امارت ملت اسلامیہ کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ R