ای بائیکس گودام غیر قانونی ، پٹرول گاڑیاں اور سیلنڈرس ضبط
حیدرآباد : /14 ستمبر (سیاست نیوز) سکندرآباد روبی ہوٹل آتشزدگی کے واقعہ کے ذمہ دار 4 ملزمین کو مارکٹ پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس نارتھ زون مس دیپتی چندنا نے بتایا کہ 12 ستمبر کی شب روبی پرائیڈ لکژری ہوٹل کے سیلر میں واقع الیکٹرک اسکوٹرس کے شوروم میں آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجہ میں 8 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جان بچانے کیلئے 7 افراد نے ہوٹل کی کھڑکی سے چھلانگ لگادی تھی جبکہ مقامی عوام اور پولیس کی مدد سے 17 افراد کو ہوٹل سے باہر نکال لیا گیا تھا ۔ زہریلا دھواں اور آگ کی زد میں آکر 8 افراد بشمول ایک خاتون ہلاک ہوگئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے سیلر میں الیکٹرانک اسکوٹرس کا گودام غیرقانونی طور پر چلایا جارہا تھا اور حادثہ کے وقت سیلر میں جملہ 28 ای بائیک موجود تھے جبکہ 8 پٹرول کی گاڑیاں ، جنریٹر اور بیاٹریز بھی موجود تھے ۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 4 ایچ پی گیس سیلنڈرس بھی جائے حادثہ سے برآمد کیا ہے ۔ ڈی سی پی دیپتی چندنا نے کہا کہ مارکٹ پولیس نے اس واقعہ کے بعد تعزیرات ہند کے دفعہ 304(2) ، 324 اور ایکسپلوزیو ایکٹ کے دفعہ 9 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے تمام نعشوں کا بعد پوسٹ مارٹم ان کے آبائی مقام کو روانہ کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کی عمارت کا مالک رنجیت سنگھ ہے اور اس کے 2 بیٹے سنیت سنگھ اور سپریت سنگھ ہوٹل اور الیکٹرانک اسکوٹرس کا کاروبار چلاتے ہیں جبکہ این سدرشن روبی لاج کا مالک ہے اور جسپال سنگھ گولاٹی اسکوٹر شوروم کا کیاشیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کی عمارت میں جملہ 32 کیمرے موجود تھے جس میں 25 کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کی گئی ہے اور اس کی بنیاد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الیکٹرک اسکوٹرس کی بیاٹری چارجنگ کے دوران وہاں دھماکہ کے بعد آگ لگنا شروع ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بادی النظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ رنجیت سنگھ ، سنیت سنگھ ، این سدرشن ، جسپال گولاٹی جنہیں گرفتار کیا گیا ہے نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ سپریت سنگھ ہنوز مفرور ہے ۔ گرفتار افراد کو سکندرآباد میٹرو پولیٹین کورٹس میں پیش کیا گیا اور بعد ازاں انہیں جیل منتقل کردیا گیا ۔ ب