سہارنپور میں دلت نوجوان کی داڑھی۔مونچھ کاٹ دی گئی

,

   

نوجوان گاؤں چھوڑنے پر مجبور‘یوگی راج میں دلتوں پر بھی مظالم!

لکھنو:سہارنپور کے ٹھاکر اور دلت طبقہ کے حساس ترین بڑگاوں تھانہ علاقہ میں ایک دلت نوجوان کی جبراً داڑھی مونچھ کاٹنے کا معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔پولیس نے اس معاملہ میں 6 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رجت نامی ایک دلت نوجوان کی جبراً داڑھی مونچھ کاٹ دی گئی ۔ اس واقعہ سے دلت طبقہ میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور نوجوان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس معاملہ میں بھیم آرمی سرگرم ہو گئی ہے اور ملزمان پر قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کا اطلاق کئے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرنے گیا ہے اور اس کا ہمسایہ ضلع مظفر نگر میں امتحان چل رہا ہے۔خیال رہے کہ 17 جولائی کو سہارنپور میں بڑگاوں تھانہ علاقہ میں شملانہ گاوں میں راجپوت سماج کے کچھ نوجوانوں نے ایک دلت طبقہ کے نوجوان کی زبردستی داڑھی ۔مونچھ کاٹ دی تھی۔ اتنا ہی نہیں اس واقعہ کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی جا رہی ہے۔ ملز مین کی گرفتاری کے بعد گاوں والوں نے پنچایت منعقد کر کے متاثرہ نوجوان کو دھمکایا، جس کے بعد وہ گاوں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان امتحان دینے کے لئے مظفرنگر گیا ہے۔نوجوان کا کہنا ہے کہ ہفتہ کے روز کچھ غیر سماجی عناصر نے حالت نشہ میں بندوق کی نوک پر اس کی داڑھی مونچھ کاٹ دی تھی۔ واقعہ کے دوران رجت بار بار رحم کی گزارش کر رہا تھا لیکن شر پسندوں نے اس کی ایک نہیں سنی اور نائی اپنا استرا چلاتا رہا۔ ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے 22 جولائی کو آناً فاناً میں 8 ملزمان کے خلاف ایس سی/ایس ٹی کے تحت مقدمہ درج کیا اور جلد ہی 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ سہارنپور کے ایس پی دیہات اتل شرما نے بتایا کہ موھکم، نیرج رانا، مونٹی رانا، ستیم رانا، سندیپ اور راجندر نائی پر سنگین دفعات میں مقدمہ درج کیا گیاہے۔اس معاملہ میں سرگرم بھیم آرمی کے زونل انچارج پردیپ گوتم نے ایس ایس پی ایس چنپا سے مل کر ملزمان پر این ایس اے کے اطلاق کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملہ میں کافی ہنگامہ ہو رہا ہے۔ جس گاوں میں یہ واقعہ پیش آیا، وہ شبیر پور سے کچھ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ شبیرپور میں 2017 میں ٹھاکروں اور دلتوں میں زبردست تشدد برپا ہوا تھا اور دلتوں کے کئی درجن مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔
یہ معاملہ کافی زیر بحث آ گیا تھا اور بی ایس پی سربراہ مایاوتی بھی اس گاوں میں پہنچی تھی۔ یہ علاقہ دونوں برادریوں کی کشیدگی کے سبب حساس ہے۔ تاہم پولیس کسی بھی طرح کے تناو سے انکار کر رہی ہے۔اس معاملہ کا ایک المناک پہلو یہ بھی ہے کہ متاثرہ نوجوان کی والدہ بھی کچھ سالوں پہلے نفرت اور تفریق کا شکار ہوئی تھیں۔ دراصل، متاثرہ کی والدہ کا اس وقت کے پردھان کے کھیت سے چارہ کاٹنے کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا تھا، جس کے بعد والدہ کی پٹائی کر دی گئی تھی۔ اس وقت بھی ملزمان کے خلاف ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن بعد میں دونوں فریقین کے مابین سمجھوتہ ہو گیا تھا۔