نئی دہلی 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے شہریت (ترمیمی) قانون کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے ایک جرنلسٹ کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سماعت سے جمعہ کو اتفاق کرلیا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بنچ نے جرنلسٹ ساکت گوکھلے کی درخواست پر مرکز کو ایک نوٹس جاری کی ہے اور اس درخواست کو بھی ان دیگر 160 درخواستوں سے مربوط کردیا جو سی اے اے کو چیلنج کرتے ہوئے اس ماہ کے اوائل سماعت کے لئے فہرست میں شامل کی گئی تھیں۔ سی اے اے پر 10 جنوری کو گزٹ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ اس قانون کے ذریعہ افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم طبقات ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور عیسائی افراد کو ہندوستانی شہریت دینے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے جو ان کے متعلقہ ملکوں میں منظم مظالم سے بچنے کے لئے 31 ڈسمبر 2014 ء تک پناہ کے لئے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے 18 ڈسمبر کو سماعت کے دوران سی اے اے پر حکم التواء جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس قانون کے دستوری جواز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عدالت نے 22 جنوری کو 143 درخواستوں کے ایک بیاچ پر سماعت کرتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ سی اے اے پر عملدرآمد پر التواء جاری نہیں کیا جاسکتا اور ان درخواستوں کا جواب دینے کے لئے حکومت کو چار ہفتوں کا وقت دی تھی۔