نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون 2019 کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اب 6 دسمبر کو سماعت ہوگی۔ آج چیف جسٹس یو یو للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے آسام اور تریپورہ سے تین ہفتوں میں اپنا جواب داخل کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل پلوی پرتاپ اور مرکز کی جانب سے کنو اگروال کو نوڈل افسر مقرر کیا۔ دونوں مل کر تمام دستاویزات تقسیم کر کے فریقین کو دیں گے۔ تمام فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ تین صفحات پر مشتمل تحریری دلائل پیش کریں۔ درخواست گزاروں کو آئندہ دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کل 232 درخواستیں زیر سماعت ہیں شہریت ترمیمی قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس قانون پر روک لگانے سے صاف انکار کر دیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔