متنازعہ قانون کے خلاف 5 لاکھ دستخطیں حاصل ، سید ولی اللہ قادری کا خطاب
حیدرآباد /11 فروری ( سیاست نیوز ) ملک کے متنازعہ قانون کے خلاف بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نے مہم میں شدت پیدا کردی ہے ۔ تاحال اس متنازعہ قانون این آر سی ، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف 5 لاکھ دستخطیں ریاست تلنگانہ سے حاصل کرنے والی بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نے اب اپنی مہم میں مزید شدت پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے ہر ضلع میں ایک ماہ طویل شعور بیداری مہم چلایا جائے گا اور آج ضلع وقارآباد کے پرگی سے اس مہم کا آغاز ہوا ۔ اے آئی ایس ایف اے آئی وائی ایف اور ایس ایف آئی نے متنازعہ قانون کے خلاف سمینار منعقد کیا ۔ اس سمینار کو مخاطب کرتے ہوئے آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ریاستی صدر تلنگانہ سید ولی اللہ قادری نے کہا کہ این آر سی اور این پی آر کے ذریعہ ملک میں مسلمانوں سے زیادہ دلت اور عسائیوں کو پریشانی ہوگی ۔ ان شہریوں کی شناحت کو حکومت اپنے رحم و کرم پر برقرار رکھنے کی سازش کر رہی ہے ۔ انہوں نے متنازعہ قانون کو سیاہ قانون قرار دیا اور کہا کہ اس قانون کے ذریعہ صرف مسلمان کو نقصان ہونے کی بات بتائی جارہی ہے ۔ لیکن حالات اس کے برعکس ہوں گے جبکہ دلت ادیواسی اور عیسائی طبقہ بہت زیادہ متاثر ہوگا ۔ جس کا ثبوت آسام میں ظاہر ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو نے فیصلہ کیا کہ اس قانون کے خلاف عوام میں شعور بیدار کیا جائے ۔ بالخصوص بی سی اور او بی سی طبقات کو اس قانون کی اصلیت آفت سے واقف کروایا جائے گا ۔ آج اس سمینار میں موجود تقریباً 2 ہزار طلبہ کو دستور کے تحفظ سیکولرازم کی برقراری ملک کی سالمیت اور ترقی کیلئے جدوجہد کرنے کا حلف دلایا گیا ۔