سی پی آئی ‘ حضور نگر ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کی تائید سے دستبردار

   

حیدرآباد 14 اکٹوبر ( پی ٹی آئی ) سی پی آئی تلنگانہ نے آج حضور نگر حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں برسر اقتدار ٹی آر ایس کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ سی پی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت ریاست میں آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سے نمٹنے میں ناکام ہوگئی ہے اس لئے امیدوار کی تائید سے دستبرداری اختیار کی گئی ہے ۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے ایک پریس کانفرنس میں ٹی آر ایس کی تائید سے دستبرداری کا اعلان کیا اور کہا کہ ایک یا دو دن میں فیصلہ کیا جائیگا کہ حضور نگر میں کس امیدوار کی تائید کی جانی چاہئے ۔ واضح رہے کہ ریاست میں آر ٹی سی کے تقریبا 48000 ملازمین ہڑتال پر ہیں اور حکومت ان سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ ہڑتال کا اعلان جے اے سی آر ٹی سی کی جانب سے کیا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ حضور نگر اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے سلسلہ میں ٹی آر ایس کے ایک وفد نے سی پی آئی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے تائید کی اپیل کی تھی ۔ وینکٹ ریڈی نے یکم اکٹوبر کو اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی ٹی آر ایس کی تائید کریگی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی نے اپنی ریاستی عاملہ میں اس پر غور کرنے کے بعد ٹی آر ایس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر اتم کمار ریڈی نے قبل ازیں کہا تھا کہ آر ٹی سی ملازمین کو کچل کر رکھ دینے چیف منسٹر کے اقدامات کے پیش نظر سی پی آئی کو حضور نگر حلقہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کی تائید کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں سے اتم کمار ریڈی منتخب ہوئے تھے تاہم وہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے جس کے نتیجہ میں حضور نگر حلقہ اسمبلی میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے ۔ کانگریس نے اس حلقہ سے اتم کمار ریڈی کی اہلیہ پدماوتی ریڈی کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ ٹی آر ایس نے سیدی ریڈی کو ٹکٹ دیا ہے جو 2018 میں بھی مقابلہ کرچکے ہیں تاہم اتم کمار ریڈی کے خلاف شکست کھا گئے تھے ۔