سیاسی اقدار کی تباہی

   

Ferty9 Clinic

رہزنوں کی رہنمائی کا ہوا ایسا اثر
راستے کا ہر لٹیرا کارواں میں آگیا
سیاسی اقدار کی تباہی
بی جے پی کو اقتدار کی خواہش اس قدر ہے کہ وہ سیاسی اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی بھی حد تک جانے کا مظاہرہ کرے گی۔ کرناٹک میں سیاسی بحران پیدا کرنے کے پیچھے اگرچیکہ بی جے پی خود کو دور رکھنے کی کوشش کررہی ہے مگر جن ریاستوں میں اس کی حکومتیں نہیں ہیں وہاں حکمراں پارٹی کانگریس کے اندر باغیانہ سرگرمیوں کو ہوا دینے کا رول ادا کرنے کا الزام سامنے آرہا ہے۔ لوک سبھا میں بھی کرناٹک کے سیاسی بحران کی گونج سنائی دی ہے۔ ملک کی قدیم ترین پارٹی کانگریس کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتے ہوئے بی جے پی نے کرناٹک کی مخلوط حکومت کو بحران سے دوچار کرنے والے سیاسی باغیانہ حالات کو ہوا دی ہے تو یہ سراسر سیاسی اخلاق کے مغائر ہے۔ بی جے پی دور میں اگر ملک کے جمہوری ادارے، دستوری تقاضے اور قانونی و اخلاقی قدریں تباہ ہورہی ہیں تو یہ بڑی بدبختی اور افسوس کی بات ہے ۔ لوک سبھا میں اس مسئلہ کو اُٹھاتے ہوئے کانگریس کے فلور لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بی جے پی کی اقتدار کی بھوک کا سوال اُٹھایا۔مرکز میں300 نشستوں پر کامیابی کے بعد بھی بی جے پی علاقائی سطح پر اقتدار کی ہوس کا شکار ہے تو یہ افسوسناک دور ہے۔ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو اپنی پارٹی کی دفاع میں یہ کہنا پڑا کہ کرناٹک بحران کے لئے بی جے پی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اگر کرناٹک کی مخلوط حکومت کو گرانے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے تو وہاں روزانہ تبدیل ہوتے سیاسی حالات کیلئے کون ذمہ دار ہے۔ پہلے 13 ارکان اسمبلی نے استعفی دیا اور اب تمام وزراء ہی مستعفی ہوگئے ہیں تاکہ جوباغی قائدین ہیں انہیں کابینہ میں شامل کرتے ہوئے ان کی باغیانہ سرگرمیوں کو ختم کیا جائے۔ اگر کوئی بھی حکمران پارٹی اس طرح داخلی باغیانہ سرگرمیوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر کابینہ میں ردوبدل کرنے یا پوری کابینہ کو برخاست کرکے اس میں باغی ارکان کو شامل کرنے کا عمل شروع کرے تو پھر ہر لیڈر کو بغاوت کے لئے اُکسایا جانا آسان ہوگا۔ جو کوئی رکن اسمبلی کابینہ میں جگہ پانے کی خواہش رکھے گا تو وہ اپنی ہی پارٹی کی قیادت کو بلیک میل کرنے لگے گا۔ حکومت بچانے کیلئے اگر ایک مخلوط حکومت اس سیاسی اتحاد کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے بدعنوانی یا باغیانہ ذہن رکھنے والے لیڈروں کو موقع دیا جائے تو پھر ایک مستحکم حکومت کا تصور ختم ہوجائے گا اور ہرگزرتے دن حکومت کے سرپر تلوار لٹکتی رہے گی۔ کرناٹک کی 224 رکنی اسمبلی میں بی جے پی سب سے بڑی واحد پارٹی ضرور ہے مگر اس کے پاس حکومت بنانے کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اس لئے وہ گذشتہ ایک سال سے کرناٹک میں حکومت کو دھکاپہنچانے کے فراق میں نظر آرہی تھی۔ جب بی جے پی کے پاس اکثریت نہیںتو اُسے اپوزیشن میں بیٹھے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیئے۔ بی جے پی نے کرناٹک میں بھی گوا اور ارونا چل پردیش کے حربے اختیار کرتے ہوئے حکمراں اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ سراسر سیاسی اخلاق و اقدار کے منافی ہے۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے کرناٹک میں بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ عوام کے تازہ خط اعتماد کے ساتھ وہ کرناٹک کے اقتدار کو اپنا حق سمجھنے لگی ہے ، اس لئے آج کرناٹک میں جنتا دل ایس کانگریس اتحادی حکومت میں بحران پیدا کیا گیا۔ یہ صورتحال جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اپنی طاقت کا من مانی استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ کرناٹک کے حالات پر تبصرہ کرنے والوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بی جے پی صدر امیت شاہ نے یہاں دوبارہ بی جے پی کو اقتدار پر لانے کی مہم شروع کی ہے۔ ارکان کی سودے بازی میں ماہر ہونے کا الزام عائد کرنے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امیت شاہ نے ہندوتوا سیاست میں اخلاق کی جو ارتھی اُٹھائی ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ کرناٹک کی یہ اتحادی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو پھر بی جے پی کو متبادل حکومت فراہم کرنے کا موقع ملے گا اور اس کی اقتدار پر واپسی کو غیر جمہوری، غیر دستوری اور غیر اخلاقی قرار دیا جائے گا۔ لہذا بحیثیت ایک قومی حکمراں پارٹی بی جے پی کو اس قدر نچلی سطح تک گر کر اقتدار کی ہوس کا مظاہرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔