بھوپال : ملک معاشی مسائل سے دو چار ہے ، حکومت روزبہ روز ملک کو قرض میں ڈبو رہی ہے ۔نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے ۔ پرانی پنشن اسکیم بند کر دی گئی۔ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ، اسے کم کرنے کی کو ئی فکر نہیں بلکہ دیگر فضولیات پر بحث کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے ۔کبھی انڈیا -بھارت تو کبھی حمیدیہ روڈ کو گرونانک مارگ!۔ان خیالات کا اظہار سابق آئی پی ایس افسر ایم ڈبلیو انصاری نے کیا۔انھوں نے کہا کہ سڑکوں،شہروں،عمارتوں اور ملک کا نام تبدیل کرنے سے کیا فائدہ؟ ملک کی عوام کے مفاد کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ بھارت ہی انڈیا ہے اور انڈیا ہی بھارت ہے ۔ روڈ چاہے حمید اللہ خاں کے نام پر ہو یا گرونانک جی کے نام پر، روڈ ہونا چاہئے ۔نام تبدیل کرنے کے بجائے روڈ بنانے کی بات ہونا چاہئے ۔کتنی ایسی جگہیں ہیں جہاں آج بھی پکی سڑک نہیں ہے ۔وہاں سڑک بنانے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ گھر گھر ترنگے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن گھر گھر روزگار کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ اسکالرشپ بند کرنے کی بات تو ہوتی ہے ، لیکن نئے نئے اسکالرشپ دینے کی کیوں بات نہیں ہوتی؟ملک تعلیم یافتہ بنے اس کے لئے تعلیمی ادارے بنانے کی بات بھی کوئی نہیں کرتا۔بڑے بڑے لیڈروں کی سرکاری سہولیات کا تو پورا خیال رکھا جاتا ہے لیکن سرکاری اسپتال کی حالت سدھارنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔