جموں۔29 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر جتیندر پرساد نے اتوار کو کانگریس اور نیشنل کانفرنس پر الزام لگایا کہ دونوں پارٹیوں نے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کی خاطر دفعہ 370 کا بیجا استعمال کیا ہے اور دونوں پارٹیاں ہمیشہ سے یہ کہتی رہیں کہ یہ دفعہ اس لیے ضروری ہے کیوں کہ مرکزی قانون ریاست جموں و کشمیر کے لیے ناموزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض اسی دفعہ کے تحت دونوں پارٹیاں کشمیری عوام کو مسلسل بیوقوف بناتی آرہی ہیں۔ حالانکہ وہ اگر مرکزی قانون کو اپناتے ہیں تو ان کو سیاسی طاقت کا حصول آسان ہوجائے گا۔ آزادی کی نصف سنچری کے بعد بھی دونوں پارٹیاں دفعہ 370 کے نام پر بی جے پی کو بدنام کررہی ہیں جبکہ دونوں پارٹیوں نے کشمیر پر مسلسل حکمرانی کی۔ سنگھ نے سابق چیف منسٹر اور بانی شیخ عبداللہ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 اس وقت کہاں گئی تھی جب انہو ںنے 42 ویں دستور میں ترمیم کرتے ہوئے ایمرجنسی کے دور میں اسمبلی میعاد کو چھ سال کردیا تھا اور پھر بعد میں تین سال اور یہی و شیخ عبداللہ تھے جو دفعہ 370 کی آڑ میں دستوری ترمیم سے اعتراض کرنے لگے جب اسمبلی میعاد کو گھٹاکر پانچ سال دوبارہ کردیا جائے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ فاروق عبداللہ وہ پہلے چیف منسٹر تھے جنہوں نے پوٹا کو لاگو کیا تھا لیکن اب وہ 1953ء کی پوزیشن کو دوبارہ لاگو کرنا چاہتے ہیں۔