سیاہ قوانین پر گورنر کے خطبہ میں حکومت موقف واضح کرے

   

نارائن ریڈی کا مطالبہ، این آر سی اور این پی آر پر حکومت کا موقف غیر واضح
حیدرآباد ۔4۔ مارچ (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے خازن جی نارائن ریڈی نے کے سی آر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریت قانون اور این آر سی کے بارے میں گورنر کے خطبہ میں وضاحت کرے۔ 6 مارچ کو دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب میں شہریت قانون اور این آر سی کے بارے میں حکومت کے موقف کا اظہار ہونا چاہئے ۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ شہریت قانون این آر سی اور این پی آر کے بارے میں چیف منسٹر کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے ۔ ان متنازعہ مسائل پر چیف منسٹر سیاسی صورتحال کے اعتبار سے اپنا موقف تبدیل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ ان کی حکومت تلنگانہ میں شہریت قانون اور این آر سی پر عمل نہیں کرے گی ۔ ریاستی کابینہ نے قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے شہرت قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا لیکن یہ اعلان نہیں کیا گیا تلنگانہ میں متنازعہ قانون پر عمل آوری نہیں ہوگی۔ کسی طرح ریاستی کابینہ نے این آر سی اور این پی آر پر بحث تک نہیں کی ۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ بہار اسمبلی میں 25 فروری کو متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے این آر سی اور این پی آر پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا۔ جنتا دل یونائٹیڈ جو بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کا حصہ ہے ، جب شہریت قانون این آر سی اور این پی آر کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کرسکتی ہے تو خود کو مخالف بی جے پی اور سیکولت ہونے کا دعویٰ کرنے والی ٹی آر ایس کو قرار داد منظور کرنے میں کیا قباحت ہے۔ کانگریس ارکان اسمبلی دونوں ایوانوں میں اس طرح کی قرارداد کی مکمل تائید کریں گے ۔ پردیش کانگریس کے خازن نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت این پی آر پر عمل آوری کے سلسلہ میں موقف کی وضاحت کریں کیونکہ این پی آر میں بعض سوالات اقبل اعتراض ہیں جن میں والدین کی جائے پیدائش کا ثبوت شامل ہے۔ کے سی آر حکومت کو 2010 ء میں یو پی اے حکومت کے دوران کی گئی مردم شماری کے فارمیٹ کے مطابق عمل کرنے کا اعلان کرنا چاہئے ۔ نارائن ریڈی نے بتایا کہ بہار میں بی جے پی کے ارکان اسمبلی نے قرارداد کی تائید کی ۔ لہذا بی جے پی کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے ۔ وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ متنازعہ قوانین کے بارے میں سیاسی مقصد براری کو پیش نظر رکھتے ہوئے بیان بازی کر رہے ہیں۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کو متنازعہ قوانین پر مشترکہ بیان کے ذریعہ عوام کے شبہات کو دور کرنا چاہئے ۔