سیف آباد پولیس کانسٹبل کورونا وائرس سے متاثر، 17 اہلکار زیرقرنطینہ

,

   

Ferty9 Clinic

کمشنر سٹی پولیس کا دورہ، سماجی فاصلہ کی پابندی کیلئے شہریوں کو مشورہ

حیدرآباد 7 اپریل (پی ٹی آئی) حیدرآباد سٹی پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹبل کا کورونا وائرس معائنہ مثبت پایا گیا ہے۔ پولیس نے کہاکہ 56 سالہ کانسٹبل سیف آباد پولیس اسٹیشن سے وابستہ ہے جس کا یہاں کے ایک سرکاری دواخانہ میں علاج کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’اس کانسٹبل کو ہفتہ کی شام اس دواخانہ میں شریک کیا گیا تھا اور پیر کو موصولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ کوویڈ ۔ 19 سے متاثر ہے‘۔ اس پولیس اہلکار کے افراد خاندان قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں۔ اس کانسٹبل کے اولین اور ثانوی رابطوں میں آنے والے افراد کے معائنوں کے لئے نمونے جمع کئے گئے ہیں۔ سیف آباد پولیس اسٹیشن کے 17 اہلکاروں کے نمونے بھی جمع کئے گئے ہیں اور اُنھیں اپنی مرضی کے مطابق قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ ذمہ داران ہنوز اس بات کا پتہ چلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ آیا وہ اس موذی وائرس سے کس ط رح متاثر ہوا ہے۔ اس دوران حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر انجنی کمار نے شہریوں سے خواہش کی ہے کہ وہ ہجوم سے دوری اختیار کرتے ہوئے سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ انجنی کمار نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہاکہ ’ہر کسی کو اپنے طور پر ڈسپلن اختیار کرنا چاہئے۔ غیر ضروری طور پر سڑکوں پر نہ جائیں اور اگر کسی خاص ضرورت کے لئے باہر نکلیں تو سماجی فاصلہ ضرور برقرار رکھیں کیوں کہ یہ بہت ضروری ہے‘۔ حیدرآباد پولیس سربراہ نے سوشل میڈیا پر فرضی خبریں اور افواہیں پھیلانے کے خلاف سخت وارننگ دی اور کہاکہ ایسی حرکتوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے۔ سیاست نیوز کے مطابق کمشنر ایم ایس مقطع ، گولکنڈہ ، آصف نگر ، بنجارہ ہلز اور پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن حدود کے دور کے علاقوں کا معائنہ کا معائنہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 90 فیصد سماجی فاصلہ پر عوام عمل کر رہی ہے لیکن 10 فیصد عوام ڈسپلن شکنی کرتے ہوئے اس لزوم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔ انجنی کمار نے سماجی فاصلہ کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو انتباہ دیا کہ ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کے علاوہ گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد کی لاپرواہی سے پورے محلہ اور تمام علاقہ کے عوام پریشان ہوسکتے ہیں۔ ولا وجہ سڑکوں پر نکلنے والے نوجوانوں کو بھی یہ انتباہ دیا گیا ہے۔