سیلاب متاثرین امداد کے منتظر، مقامی جماعت کے قائدین بہار میں مصروف

   

ہزاروں مستحق خاندان امداد سے محروم، پرانے شہر کے کئی علاقوں میں کوئی پرسان حال نہیں

حیدرآباد: حیدرآباد میں بارش اور سیلاب کی غیر معمولی تباہ کاریوں سے عوام ابھی ابھر بھی نہیں پائے کہ عوامی نمائندوں نے ان کی امداد اور بازآبادکاری کے بجائے خود کو بہار کی انتخابی مہم میں مصروف کردیا ہے ۔ بارش و سیلاب کے نتیجہ میں پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات چندرائن گٹہ ، یاقوت پورہ ، بہادر پورہ ، نام پلی اور کاروان کے کئی علاقے متاثر ہوئے جہاں ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد خاندانوں کا نقصان ہوا ۔ جانی نقصانات تو کم ہوئے لیکن املاک کے نقصانات نے متاثرہ خاندانوں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عوام پہلے ہی پریشان تھے اور بارش نے ان کی پریشانیوں اور مسائل میں اضافہ کردیا ۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کیلئے فوری طور پر 10,000 روپئے کی امداد کا اعلان کیا اور فوری طور پر تقسیم کا آغاز ہوا لیکن تقسیم کے عمل میں بے قاعدگیوں اور پارٹی کے حامیوں میں تقسیم کی شکایت ملنے کے بعد حکومت نے امدادی رقم کی تقسیم کو روک دیا ۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں آج بھی ہزاروں خاندان حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔ مقامی جماعت کی جانب سے اسمبلی حلقوں میں کروڑہا روپئے تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن حقیقی متاثرین کی کثیر تعداد رقمی امداد سے محروم رہی۔ حکومت نے امداد کی تقسیم کے کام کو روک دیا جس پر شہر کے کئی علاقوں میں احتجاج منظم کیا گیا ۔ متاثرین کی ناراضگی اور مجوزہ بلدی انتخابات میں سیاسی نقصان کے اندیشہ کے تحت حکومت نے امداد کی دوبارہ تقسیم کا اعلان کیا۔ چیف سکریٹری کے اعلان کے باوجود ابھی تک عہدیداروں نے متاثرہ علاقوں میں تقسیم عمل میں نہیں لائی ہے۔ ایسے وقت جبکہ متاثرہ عوام کو امداد کی فراہمی اور متاثرہ علاقوں میں صفائی کا کام انجام دیا جانا باقی ہے، مقامی جماعت کے بعض ارکان اسمبلی اور کئی کارپوریٹرس متاثرین کو بے یار و مددگار چھوڑ کر بہار کی انتخابی مہم کیلئے روانہ ہوگئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ متاثرہ علاقوں کے کارپوریٹرس کو بہار کی مہم سے دور رکھا جاتا تاکہ وہ متاثرین کے امدادی کام انجام دے پاتے لیکن متاثرین سے زیادہ انتخابی مہم کو ترجیح دی گئی جس کے نتیجہ میں ہزاروں متاثرہ خاندان خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں ۔ مشکل کی گھڑی میں عوام کی خدمت کی بجائے مقامی جماعت کے قائدین بہار روانہ ہوگئے اور گزشتہ دو ہفتوں سے متاثرہ علاقوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اب جبکہ بہار میں آخری مرحلہ کی انتخابی مہم اختتام پذیر ہوئی ، مقامی جماعت کے قائدین واپس ہورہے ہیں۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ کم از کم حکومت کے 10,000 روپئے انہیں فراہم کئے جائیں۔ حکومت نے مکانات کی مکمل تباہی پر ایک لاکھ اور جزوی نقصانات پر 50,000 روپئے کی امداد کا اعلان کیا تھا لیکن عہدیداروں نے ابھی تک نقصانات کا سروے کرکے متاثرین کی نشاندہی نہیں کی ہے ۔