سیلف ڈسپلن اور ٹائم مینجمنٹ کی جگہ فون مینجمنٹ ہورہا ہے

   

حیدرآباد ۔ 22 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : مسلمانوں کو ترقی کے لیے سب سے پہلے ایک ڈسپلن قوم بننے کی ضرورت ہے ۔ اسمارٹ فون مسلمانوں کی اخلاقی گراوٹ اور ہر شعبہ میں پسماندگی کا سبب بن گیا ہے ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے رائچور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون مسلمانوں میں اخلاقی گراوٹ پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے کہا کہ موبائل فون کے بہ کثرت استعمال سے نہ صرف اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ یہ تخلیقی صلاحیتوں کا خاتمہ کرنے کا بھی موجب بن رہا ہے ۔ انٹر نیٹ کا استعمال ضروری ہے لیکن اس کا بیجا استعمال منفی رجحانات کو فروغ دے رہا ہے جو ایک ڈسپلن قوم کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ جس قوم نے ٹائم مینجمنٹ اور سیلف ڈسپلن کو نظر انداز کردیا اس کو دنیا نے فراموش کردیا ۔ اسلام نے وقت کی پابندی کو کافی اہمیت دی ہے ۔ پانچ وقت کی نماز اس کا ثبوت ہے ۔ رات آرام کرنے کے لیے اور دن کام کرنے کے لیے بنایا گیا مگر ہماری نوجوان نسل رات کو جاگ رہی ہے اور دن میں سو رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم مسابقت میں پچھڑ رہے ہیں ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے بتایا کہ مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں میں کئی خدا داد صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ان صلاحیتوں کے استعمال میں نوجوانوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ قرآن سے دوری ہے اور فون سے قربت ثابت ہورہی ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے مسلمانوں کو قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ زندگی سے موت تک کے تمام مسائل کا حل قرآن مجید میں موجود ہے ۔ لیکن قرآن سے دوری کے نتیجے میں ہم اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ نہیں پا رہے ہیں اور ان مسائل میں الجھتے ہوئے اپنی زندگیوں سے ڈسپلن ، خود اعتمادی کے علاوہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو ختم کرنے لگے ہیں ۔۔