سیمی فائنل میں کے سی آر کو شکست، فائنل میں مودی کو شکست دیں گے: ریونت ریڈی

,

   

بھگوان مندر میں عقیدت دل میں ہونی چاہئے، بی جے پی تحفظات ختم کرنے کے حق میں، حضورآباد اور بھوپال پلی میں کانگریس کی انتخابی ریالیوں سے خطاب

حیدرآباد: 30 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ الیکشن کے سیمی فائنل میں تلنگانہ میں بی آر ایس کو بدترین شکست دی گئی اور فائنل میں تلنگانہ کی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نریندر مودی کو شکست دینا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات دراصل تلنگانہ بہ مقابلہ گجرات ہے اور ہمیں بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے مرکز میں کانگریس زیر قیادت اپوزیشن اتحاد انڈیا کی حکومت قائم کرنی چاہئے۔ چیف منسٹر نے آج کریم نگر، ورنگل اور چیوڑلہ لوک سبھا حلقوں میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے حضورآباد، بھوپال پلی اور بالا پور میں کانگریس امیدواروں کے روڈ شو میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی اور بی آر ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ حضورآباد میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کریم نگر کے عوام سیاسی طور پر باشعور ہیں اور وہ مذہبی منافرت کی سیاست کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کریم نگر اور محبوب نگر سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد دونوں اضلاع کے مسائل کو فراموش کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 10 برسوں میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بنڈی سنجئے نے مرکزی حکومت سے تلنگانہ کے لیے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور بنڈی سنجئے کو ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے یہ کہتے ہوئے تلنگانہ کی توہین کی تھی کہ کانگریس نے ماں کو ہلاک کرکے بچے کا تحفظ کیا ہے۔ بی جے پی علیحدہ تلنگانہ تشکیل کی مخالف رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اور تلنگانہ کے ساتھ مرکز کا رویہ ناانصافی کا رہا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر اور لارڈ رام کے نام پر بی جے پی ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ملک کے ہندوئوں کو غور کرنا چاہئے کہ بی جے پی کس طرح رام کا نام سیاسی فائدے کے لیے استعمال کررہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مجھے اپنے ہندو ہونے پر فخر ہے لیکن ووٹ کے لیے ہندو مذہب کو استعمال نہیں کریں گے۔ بھگوان کو مندر میں ہونا چاہئے جبکہ عقیدت دل میں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر اور نظام آباد میں بی جے پی رام کے نام پر ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کو اگر 400 نشستیں حاصل ہوتی ہیں تو وہ ملک میں ایس سی ایس ٹی اور بی سی کے تحفظات ختم کردے گی۔ انہوں نے نریندر مودی سے سوال کیا کہ وہ ملک میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کیوں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو تلنگانہ عوام سے تحفظات پر وضاحت کرنی چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے تحفظات کو بچایا جاسکتا ہے۔ دلتوں اور کمزور طبقات کو بی جے پی کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تحفظات کے بارے میں بات کرتے ہی نئی دہلی سے پولیس حیدرآباد پہنچ گئی۔ کے سی آر نے 10 سال تک حکمرانی کی اور میرے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔ آخرکار عوام نے اس کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی کار ناکارہ ہوچکی ہے اور تلنگانہ میں کے سی آر کو بس میں سوار ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے اور اپنی بیٹی کی ضمانت کے لیے کے سی آر نے محبوب نگر، چیوڑلہ، بھونگیر، کریم نگر اور ملکاجگری میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔ نلگنڈہ اور میدک میں بی جے پی کامیاب ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ میں ان کی حکومت نے 30 ہزار روزگار فراہم کئے۔ 15 اگست سے قبل کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کردیئے جائیں گے۔ 1