احمد آباد :ملک کے مختلف ریاستوں سے گرفتار کیے گئے ایک سو ستائیس افراد کو پولیس نے بیس سال پہلیقومی مفادعامہ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ جسے سورت کی چیف جیوڈیشیل کورٹ نے باعزت بری کیا ہے۔ملک کا قانون عوام کے حقوق اور اس کے تحفظ کے لئے بنا ہے لیکن ملک کے نظام سے جڑے افسران سے کبھی ایسی چوک ہوجاتی ہے، جو خاندانوں کو اجاڑ دیتی ہے۔ زندگیاں برباد کر دیتی ہیں یا تو وہ زندگی بھرانصاف کے انتظار میں جیل میں سڑجاتے ہیں، یا جب انہیں انصاف ملتا ہے تو ایسے افراد یا ان کے اہل خانہ کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔ انصاف کی چکی میں پس کرجیل کی سلاخوں سے بیس سال بعد باہر آنے والے ایک سو ستائیس افراد کی کہانی دوہزار ایک میں شروع ہوتی ہے۔ملک کے مختلف ریاستوں سے گرفتار کیے گئے ایک سو ستائیس افراد کو پولیس نے بیس سال پہلیقومی مفادعامہ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ جسے سورت کی چیف جیوڈیشیل کورٹ نے باعزت بری کیا ہے۔ان لوگوں کو ملک کے امن وسلامتی میں رخنہ ڈالنے اور اس سے جڑے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔جس میں سے چوالیس افراد کا تعلق مہاراشٹر سے ہے۔ پچیس افرادگجرات سے ہیں۔ تیرہ کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے، گیارہ افراد کرناٹک سے ہیں ، دس اتر پردیش ریاست کے ہیں جبکہ باقی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ افراد اب کورٹ کی جانب سے باعزت بری کردیے گئے ہیں لیکن بے قصور ثابت ہونے والے ان افراد کی زندگی کے تقریباً بیس سال برباد ہوگئے۔