کے ٹی آر سے ملاقات کے بعد فیصلہ ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں سے ناانصافی کا الزام
حیدرآباد۔14۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت کی ناکامیوں اور مسلمانوں سے ناانصافی پر برہمی کا اظہار کرکے جناب علی بن ابراہیم عبداللہ مسقطی نے کانگریس سے مستعفی ہو کر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جناب علی مسقطی نے آج ورکنگ صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی اور شخصی تبادلہ خیال کے بعد کانگریس سے مستعفی ہونے اور بی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار میں آنے سے قبل جناب علی مسقطی نے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے سے ملاقات کرکے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اور ریاست میں کانگریس کے حق میں انتخابی مہم چلائی تھی ۔ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں سے مسلسل ناانصافی پر انہوں نے کانگریس سے مستعفی ہوکر بی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ جوبلی ہلز ضمنی انتخابات سے عین قبل کانگریس سے مسلم قائدین کی ناراضگی اور علحدگی نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کے دوران سابق وزیر کے ایشور ‘ مسٹر ایم این سرینواس راؤ کے علاوہ جناب یونس اکبانی اور دیگر قائدین موجود تھے ۔ جناب علی مسقطی نے بتایا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد 9 سالہ کے سی آر کے دور اقتدار میں ریاست کو فسادات سے پاک رکھا گیا تھا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری میں چندر شیکھر راؤ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور فرقہ پرستوں کے خلاف کارروائی سے گریز نہ کرکے اپنے سیکولر کردار کو ثابت کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس دوبارہ اقتدار حاصل کرے گی اور اس کا یقین ہے کیونکہ حکومت مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوتی جارہی ہے اور حالات میں بہتری کے بھی کوئی امکانات نہیں ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ حکومت سے مسلمانوں کی سیاسی ‘ معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی حالت کو بہتر بنانے گذشتہ 2 برسوں میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔3