۔1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن نے مواخذے کا سامنا کیا تھا
ٹرمپ کو بری کرکے ری پبلکنز نے لاقانونیت کو عام کردیا ہے :پیلوسی
واشنگٹن ، 6فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی سینیٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مواخذے کی سماعت کے دوران تمام الزامات سے بری کر دیا ۔سینیٹ نے بدھ کو اپنی سماعت میں مسٹر ٹرمپ کو کانگریس کی کارروائی میں رکاوٹ پہنچانے کا مجرم نہیں پایا ہے ۔سینیٹ نے اس تاریخی ووٹنگ میں امریکہ کے 45 ویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو عہدہ سے نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی رہنما کیلئے سیاسی فتح میں ڈوانلڈ ٹرمپ ریپبلکنز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور ڈیموکریٹس کی انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش ناکام ثابت ہوئی۔امریکی صدر نے فوری طور پر فتح کا دعویٰ کیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے اسے ان کا ‘بے گناہی کا ثبوت’ قرار دیا۔ڈیموکریٹس نے ان کی بریت کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ ٹرائل قرارر دیا۔تاہم سینیٹ میں ووٹ نے ظاہر کیا کہ ریئل اسٹیٹ کے سابق شہنشاہ کی انتخابات سے 9 ماہ قبل ریپبلکن پارٹی پر گرفت کتنی مضبوط ہے ۔متعدد افراد کا کہنا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا رویہ غلط تھا تاہم ریپبلکن ارکان، صدر کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے سے بری کرنے میں وفادار رہے ۔ٹرائل کی صدارت کرنے والے سپریم کورٹ کے جسٹس جون رابرٹس کا کہنا تھا کہ ‘دو تہائی سینیٹرز نے انہیں مجرم نہیں ٹھہرایا جس کی وجہ سے یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے ڈونالڈ جون ٹرمپ بری ہیں’’۔ڈونالڈ ٹرمپ کے مخالف ایک ریپبلکن سینیٹر مٹ رونی نے پہلی مرتبہ گنتی کے دوران ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا خطرہ مول لیا تھا اور کہا تھا کہ‘ ‘ڈونالڈ ٹرمپ عوامی اعتماد توڑنے کے مجرم ہیں’’۔تاہم انہوں نے دوبارہ گنتی پر انہوں نے ووٹنگ کے دوران ٹرمپ کو مجرم ٹھہرانے سے انکار کردیا تھا۔ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذہ اور ٹرائل سے ان پر ہمیشہ کے لئے داغ لگ گیا ہے کیونکہ اس سے قبل اس کا سامنا صرف 2 امریکی صدر 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن کو کرنا پڑا تھا۔فیصلے پر بات کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس سے تقریر کریں گے جس میں ‘‘مواخذہ کی جعلسازی سے ملک کی فتح پر بات کریں گے ‘‘۔جہاں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ‘مکمل بے گناہی کا ثبوت’ مل گیا ہے وہیں ایوان نمائندگا کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کو بری کرکے ریپبلکن ارلکان نے ‘لاقانونیت کو عام’ کردیا ہے ۔ڈونالڈ ٹرمپ کی اسٹیٹ آف دی یونین کے خطاب کے دوران ان کی تقریر کی کاپی پھاڑنے والی نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ ‘‘بغیر ٹرائل کے کوئی بری نہیں ہوسکتا، اور ٹرائل بغیر گواہان، دستاویزات اور شواہد کے ہونہیں سکتا’’۔انہوں نے کہا کہ ‘‘افسوس کے ساتھ، ریپبلکن ارکان کے سینیٹ کے آئین سے غداری کی وجہ سے صدر اب بھی امریکی جمہوریت کے لئے خطرہ برقرار ہیں اور وہ خود کو قانون سے بالاتر بتاتے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو انتخابات کو بھی خراب کرسکتے ہیں‘‘۔ سنینٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر کا کہنا تھا کہ بریت کی کوئی ’’قدر نہیں‘‘ کیونکہ ریپبلکن ارکان نے ان کے ٹرائل کے دوران گواہان کو مسترد کردیا جو ڈیموکریٹس کے مطابق اس سے قبل کسی بھی مواخذے کی کارروائی میں نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ڈیموکریٹس کی اکثریت پر مبنی ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور تحقیقات میں کانگریس کی راہ میں رکاوٹ بننے پر ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی مکمل کی تھی۔امریکی صدر کو تقریباً یقین تھا کہ وہ سینیٹ سے بری ہوجائیں گے جہاں ریپبلکن پارٹی کو 2 تہائی اکثریت حاصل ہے ، لیکن یہ ٹرائل ان کے دوبارہ انتخاب پر کس طرح اثر انداز ہوگا یہ بات واضح نہیں۔