چیف منسٹر پر عوامی رقومات کو ضائع کرنے کا الزام ۔کل جماعتی قائدین کا ’’چلو سیکریٹریٹ‘‘ احتجاج
حیدرآباد 25 جولائی ( این ایس ایس ) کل جماعتی قائدین کی جانب سے آج اندرا پارک پر چلو سیکریٹریٹ پروگرام منعقد کیا گیا ۔ یہ احتجاج سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارت کو منہدم کرنے اور نئی عمارت تعمیر کرنے اور ریاستی اسمبلی کیلئے ایرم منزل کی موجودہ عمارت کو منہدم کرکے نئی عمارت تعمیر کرنے کے منصوبے کے خلاف کیا گیا ۔ یہ پروگرام جی وینکٹ سوامی فاونڈیشن کی جانب سے منعقد کیا گیا جس میں تلنگانہ جنا سمیتی کے صدر پروفیسر کودانڈا رام ‘ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے قائدین اے دیاکر ‘ ترجمان ‘ اندرا شوبھن ‘ سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی ‘ بی جے پی قائدین ڈی کے ارونا ‘ سی ایچ رامچندر ریڈی ‘ تلگودیشم قائدین ایل رمنا ‘ آر چندر شیکھر ریڈی ‘ پروفیسر وشویشور راو اور دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی ۔ قبل ازیں ان قائدین نے ٹی آر ایس حکومت اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ چیف منسٹر نے نئی اسمبلی اور سیکریٹریٹ تعمیر کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ غلط ہے ۔ ان قائدین نے کہا کہ وہ کے سی آر حکومت کو عوام کے خلاف جانے والے منصوبوں پر عمل کرنے سے روکنے کیلئے اپنے احتجاج اور مہم میں شدت پیدا کرینگے ۔ ان قائدین نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ کے سی آر کے آمرانہ دور حکومت کے خلاف تلنگانہ جدوجہد کی طرح تحریک چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیکریٹریٹ اور اسمبلی کی نئی عمارتوں کی تعمیر پر جو 500 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے
اس رقم کو غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کرنے پرخرچ کرسکتی ہے ۔ جی وینکٹ سوامی فاونڈیشن کے صدر و سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو پر عوامی پیسہ ضائع کرنے اور آمرانہ فیصلے کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سیکریٹریٹ اور اسمبلی کی موجودہ عمارتیں بہتر حالت میں ہیں اس کے باوجود حکومت ان کو منہدم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو مناسب نہیں ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کونڈا وشویشور ریڈی نے کہا کہ عوامی رقومات کا ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ کس نے ریاستی حکومت کو نئی عمارت تعمیر کرنے کا مشورہ دیا ہے ؟ ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر ایسے فیصلے کر رہے ہیں جس سے قدیم عمارتوں کی تاریخ کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس پارٹی قائدین سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے فیصلوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کروائیں اور حکومت کو اس طرح کے من مانی فیصلے کرنے سے روکیں۔ پولیس نے احتجاجی قائدین کو سیکریٹریٹ کی سمت مارچ کرنے پر حراست میں لے لیا ۔ ان قائدین کی پولیس کے ساتھ لفظی تکرار بھی ہوئی ۔