مکانات میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی، رکن اسمبلی وی شنکر کے وعدوں کی تکمیل، پٹے جات کی حوالگی
شادنگر 28 فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کئی دنوں سے دکھایا گیا خواب آخرکار آج حقیقت بن گیا۔ ڈبل بیڈ روم گھر اہل مستحقین کے حوالے کر دیے گئے۔ شادنگر میونسپلٹی کے اجلاس کونسل ہال میں ہفتہ کے روز منعقدہ پروگرام میں ایم ایل اے ویرلا پلی شنکر نے مستحقین کو گھروں کے پٹّے تقسیم کیے۔ جس صبح کا طویل وقت سے انتظار تھا وہ آج پورا ہو گیا۔ ایم ایل اے نے حال ہی میں میڈیا کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ مارچ کے پہلے ہفتہ میں پٹّے تقسیم کیے جائیں گے اور مستحقین سے گھر میں داخلہ (گھر پریویش) کروایا جائے گا۔ مارچ کے آغاز سے ایک دن پہلے ہی انہوں نے باضابطہ طور پر پٹّے حوالے کر دیے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 1200 گھروں کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ شادنگر شہر کے 28 وارڈز سے مستحقین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تمام وارڈز میں ایم ایل اے شنکر کے ہاتھوں علامتی طور پر کچھ مستحقین کو پٹّے دیے گئے۔ اس موقع پر میونسپل چیئرمین اگنورو بسوم، وائس چیئرمین اندے موہن، آر ڈی او سریتا، تحصیلدار ناگیا، مارکیٹ کمیٹی وائس چیئرمین محمد علی خان بابر، میونسپل کمشنر سنیّتا ریڈی اور تمام وارڈز کے کونسلرز موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گھروں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں اور مستحقین بغیر کسی دشواری کے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی اہل شخص کو گھر نہ ملا ہو تو اسے اندرامّاں ہاؤسنگ اسکیم کے تحت گھر فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں مستحقین نے شرکت سے جشن کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ ایم ایل اے ویرلا پلی شنکر کا نے کہا کہ اگرچہ ڈبل بیڈ روم گھروں کی تعمیر پچھلی حکومت کے دور میں مکمل ہو چکی تھی، لیکن مکمل سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے تقسیم میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دوران گھروں کی فوری تقسیم نہ ہونے اور موجودہ حکومت کے دور میں سہولیات کے لیے فنڈز جمع کرنے میں تاخیر کے سبب گھروں کے دروازے اکھڑ گئے اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ اسی طرح نکاسی آب، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی جیسی سہولیات بھی فراہم کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے یہ تمام کام مکمل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کونسلرز کو ہدایت دی کہ وہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر مستحقین کے مسائل حل کریں۔ کسی بھی مسئلے کی فوری طور پر نشاندہی کی جائے تو اسے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کی تقسیم میں مکمل شفافیت اختیار کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ 3500 اندرامّاں گھر ابھی مستحقین کو دیے جانے باقی ہیں ، اور جو افراد اب تک محروم ہیں انہیں بھی جلد گھر فراہم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر تمام بلدیہ کونسلرس۔ ڈبل بیڈ روم کے مستحقین۔ مقامی عوام کے علاوہ کانگریس پارٹی قائدین موجود تھے۔۔