شادیوں کے محدودشرکاء بن بلائے مہمان کورونا سے غافل کیوں؟

   

خوشی کی محفل میں فیس ماسک کو نظرانداز کرنے کے علاوہ مصافحہ اور گلے ملنے کا رجحان خطرناک ،حکام کو سخت رویہ اختیار کرنا ضروری

حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی وبا سے ساری دنیا میں طرز زندگی بدل چکی ہے اور شادی بیاہ کی چکاچوند تقاریب اب دن کے اجالے میں سادگی سے منعقد ہورہی ہیں لیکن اس کے باوجود عوام میں ایک قسم کی تشویش پائی جارہی ہے جس کی اہم وجہ شادی بیاہ کی تقاریپ میں وائرس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیرکو نظر اندازکیا جانا ہے۔ وائرس سے بچنے کے معاملے میں بعص مقامات پر احتیاطی تدابیر پر سختی سے پابندی کی جارہی ہے لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد خوشی کے موقع پر چہرے کے ماسک کو بھولنے ،نکاح کی تقریب منعقد ہونے کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملنے اور مصافحہ کرنے کے علاوہ خوشی کے ماحول میں سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھ رہے ہیں۔کورونا وائرس کی جاریہ مہلک وبا کے دوران وائرس سے تحفظ کی غرض سے حیدرآباد اوررنگاریڈی کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی اقدامات کے رہنمانہ اصولوں کو نظر اندازکرتے ہوئے مختلف شادی خانوں ، مساجد اوردلہنوں کے مکانات پر ہی شادیوں کا اہتمام کیا جارہا ہے لیکن یہ پریشان کن ہے کہ ان تقاریب میں سماجی دوری اور دیگر احتیاطی اقدامات کو بالائے طاق رکھا جارہا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں شادی بیاہ کی تقاریب سے بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات کے ساتھ ہی سوشیل میڈیا کے ذریعہ یہ بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کئی مقامات پر قاضی صاحبان بھی کورونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں میڈیا سے اظہار خیال کرتے ہوئے اکنامک فریڈم مومنٹ کے قومی کنوینر اورنوبل انوٹیک کے بانی احمد ارشد حسین نے کہا کہ شادی بیاہ کی تقاریب میں ہونے والی لاپرواہی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خوشی کا ماحول کب ماتم میں بدل جائے کہا نہیں جاسکتاکیونکہ آئے دن ساری دنیا سے ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ شادی میں شرکت کرنے والے اتنے لوگ کورونا سے متاثر ہوئے وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود شہر حیدرآباد اور اسکے اطراف میں ہونے والی شادیوں کے بعد کورونا کی مایوس کن خبریں منظرعام پرآرہی ہیں جن میں ایک واقعہ عنبرپیٹ کے علاقے میں ایک تقریب کے بزرگ شرکاء کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا ہے۔ایسی مایوس کن اطلاعات کے باجودحیدرآباد کے قاضی صاحبان کے ساتھ ساتھ وقف بورڈ، محکمہ اقلیتی بہبود کی خاموشی معنی خیز ہے جس پر عوام میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ جبکہ حیدرآباداوراضلاع کے بعض قاضی صاحبان بغیر ماسک اوردستانوں کے نہ صرف مصافحہ کرتے ہوئے نظرآئے ہیں بلکہ سماجی فاصلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے کے واقعات بھی عام ہیں۔ تقاریب سے قبل بعض شادی خانوں، مکانات اور مساجد کو سینٹرائیز نہیں کیا جارہا ہے اورب ہینڈسینٹرئیز کی بھی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ جب کہ ان تقاریب میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بھی کثیر تعداد شریک ہو رہی ہے۔نوشہ کو سہرے کے ساتھ خوب صورت کورڈن کلرکا میچینگ ماسک فراہم کیا جارہا ہے لیکن شرکاء بغیر ماسک کے ہی شریک ہو رہے ہیں۔ اسطرح کی بے احتیاطی کی وجہ سے مساجد میں بھی کورونا پھیلنے کے اندیشے ہیں جس سے مساجد کے دوسرے مصلی بھی متاثرہو سکتے ہیں۔ حکومت تلنگانہ، محکمہ اقلیتی بہبود، گریٹر حیدرآباد مونسپل کارپوریشن اور وقف بورڈ کو بھی اس جانب فوری توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ قاضی صاحبان ، مساجد اور فنکشن ہال میں کورونا کے خلاف رہنمانہ خطوط پر سختی سے پابندی کا انتطام کرے اور خلاف ورزی پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں۔