شاعری کے ذریعہ برج بھوشن کی کانگریس پر تنقید

   

گونڈہ: جنسی ہراسانی کے الزامات کی وجہ سے پہلوانوں کا سیاست کے اکھاڑے میں سامنا کررہے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سبکدوش ہونے والے صدر برج بھوشن شرن سنگھ نے اتوار کو رام چرت مانس کی چوپائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا‘‘ہویئے وہی جو رام رچی راکھا۔مرکز کی نریندر مودی حکومت کے نو سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے شاعرانہ انداز میں کہا، ‘‘یہ ملا مجھ کو محبت کا صلہ، بے وفا کہہ کر مجھے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس کو رسوائی کہیں کہ شہرت اپنی، دبے ہونٹوں سے مرا نام لیاجاتا ہے ۔تاہم اس موقع پر برج بھوشن کھیل اور کھلاڑیوں کے بارے میں براہ راست کچھ نہیں بولے اور ان کے نشانے پر کانگریس رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 1971 میں مودی والا مضبوط ہندوستان ہوتا تو پاکستان ہماری سرزمین پر قبضہ نہیں کر پاتا اور 92 ہزار فوجی یوں ہی نہ جاپاتے ۔ 1947 میں ملک آزاد ہوا، ابھی آزادی کا عمل جاری تھا کہ ملک تقسیم ہوگیا۔ پاک نے قبائلی حملہ کردیا لیکن فوج نے اپنی بہادری اور پراکرم سے 92 ہزار پاک فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا لیکن کانگریس کی ناکامی کی وجہ سے تقریباً 78 ہزار مربع زمین پاکستان کے قبضے میں چلی گئی۔کانگریس کو مسلسل نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1962 میں چین نے ہندوستان پر حملہ کیا اور کانگریس کی وجہ سے 33 ہزار مربع میٹر زمین پر قبضہ کر لیا۔ 1975 میں کانگریس نے آمرانہ رویہ اپناتے ہوئے اور جمہوریت کا قتل کرتے ہوئے ایمرجنسی لگائی اس میں وہ بھی جیل بھیجے گئے ۔ سکھوں کے درد کو تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1984 میں جب سکھوں کا قتل عام ہوا تو اس وقت بھی کانگریس کی حکومت تھی۔