طرابلس: شام میں غذا اور ایندھن کے بڑھتا ہوئے بحران کے سبب اتوار کو روٹی کی قیمت دگنی ہوگئی جبکہ ڈیزل کے نرخ تین گنا بڑھ گئے۔بشار الاسد کی حکومت کو 10 سالہ خانہ جنگی اور مغربی پابندیوں کے سبب پیدا ہونے والے مالی بحران کا سامنا ہے۔دمشق میں حالیہ برسوں میں پیدا ہونے والی مالی بحران سے نمٹنے کے لئے ایندھن کی قیمتوں میں بار باراضافہ کیا گیا ہے۔تازہ ترین اضافوں میں گذشتہ ہفتے پٹرول کی قیمت میں ہونے والا25 فیصد اضافہ شامل ہے۔اس دھچکے کو کم کرنے کیلئے شام کے صدر بشار اسد نے ایک فرمان جاری کیا ہیجس میں سرکاری شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا اورفی کس کم سے کم ماہانہ اجرت 47000 پاونڈ (18ڈالر) سے 71515 شامی پاونڈ مقررکی گئی ہے جو سرکاری نرخ کے مطابق 28 ڈالربنتی ہے۔صدر اسد نے سرکاری شعبے اور فوج کی پنشنز میں بھی 40 فیصد اضافہ کر دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رقوم کہاں سے آئیں گی۔