مسقط: عمان نے شام میں اپنے سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔وہ پہلا خلیجی عرب ملک ہے جس نے شام میں اپنے سفیر کو دوبارہ بھیجا ہے۔خلیجی عرب ممالک نے 2012 میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے پْرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اپنے اپنے سفارتی عملہ کو دمشق سے واپس بلا لیا تھا یا سفارت خانوں کو بند کردیا تھا اور عملہ کی تعداد محدود کردی تھی۔لیکن عْمان واحد عرب ملک ہے جس نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح عوامی تحریک کے باوجود جزوی طور پر سفارتی تعلقات بحال رکھے ہیں اور انھیں منقطع نہیں کیا حالانکہ امریکہ نے اس پر شام سے تعلقات توڑنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔شام کے وزیر خارجہ نے اتوار کے روز عْمان کے سفیر ترکی بن محمود البوصیدی سے سفارتی اسناد وصول کی ہیں۔عْمان نے انھیں مارچ میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے دمشق میں اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔متحدہ عرب امارات نے 2018ء کے آخر میں دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔ تب سے وہاں اماراتی ناظم الامور تعینات ہیں اور سفارتی امور چلا رہے ہیں۔ایک اور خلیجی ریاست کویت کا کہنا ہے کہ وہ عرب لیگ میں مفاہمت کی صورت میں دمشق میں اپنا سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کو تیار ہے۔ واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی شامی عوام کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے ردعمل میں عرب لیگ نے 2011ء میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔