منزل مقصود تک پہونچنے میں تاخیر، بلدیہ، ٹریفک پولیس خواب غفلت میں
حیدرآباد۔16جولائی (سیاست نیوز) شاہ علی بنڈہ سے چندرائن گٹہ جانے والی سڑک پر ایک سے زائد مقامات پر ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے اور اس سڑک سے گذرنے والوں کو رات کے اوقات میں اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ایک گھنٹہ سے زیادہ کا وقت اس سڑک پر ٹریفک کی نذرکرنا پڑتا ہے ۔شاہ علی بنڈہ سے چندرائن گٹہ پہنچنے تک زائد از تین مقامات پر ٹریفک جام روز کا معمول ہے حالانکہ اس مصروف ترین سڑک پر موجود مسائل کو بہ آسانی حل کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ شاہ علی بنڈہ سے سید علی چبوترہ پہنچنے کے لئے سب سے پہلے شاہ غوث ہوٹل کے پاس ٹریفک کے مسائل ہوتے ہیں اور اس مسئلہ کو پار کرنے کے بعد سید علی چبوترہ اور علی آباد کے درمیان علی آباد سرائے کی تنگ سڑک پر گاڑیوں کا گذرنا انتہائی محال ہوتا ہے جہاں ٹریفک جام نئی بات نہیں ہے۔ علی آباد جھنڈے سے شمشیر گنج تک ٹریفک میں کوئی خلل نہیں ہوتا جبکہ شمشیر گنج پار کرنے کے بعد انجن باؤلی چوراہا انتہائی تکلیف دہ چوراہے میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں وٹے پلی ‘ فلک نما اور شمشیر گنج سے آنے والی ٹریفک مسائل پیدا کرتی ہے اور فلک نما بس ڈپو میں داخل ہونے والی بسوں کے سبب کئی گھنٹوں تک بے ہنگم ٹریفک ہوا کرتی ہے۔ انجن باؤلی سے فلک نما برج سے قبل اپوگوڑہ تک ٹریفک کے کوئی مسائل نہیں ہوتے لیکن اپوگوڑہ سے فلک نما برج بلکہ چندرائن گٹہ چوراہے تک ٹریفک کے مسائل کے سبب شہریوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر میں حکومت کی جانب سے سڑکوں کو بہتر بنانے اور ٹریفک کے مسائل کے حل کے متعدد دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اگر شاہ علی بنڈہ تا چندرائن گٹہ سڑک پر موجود ٹریفک کے مسائل کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ ٹریفک پولیس کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کو ان علاقوں کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی وہ ان کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔اپوگوڑہ سے فلک نما برج کی سڑک پر فاطمہ نگر ڈپو کی بسوں کے علاوہ تنگ برج کی وجہ سے کئی کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے۔پرانے شہر کی اس مرکزی سڑک پر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کے بجائے ان مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ اس سڑک سے گذرنے والوں کے لئے یہ معمول کی بات ہے لیکن ٹریفک جام کے دوران جس طرح کے مسائل کا سامنا شہریوں کو کرنا پڑرہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مصروف ترین سڑک پر اگر ٹریفک کے بہاؤ کو معمول کے مطابق نہیں بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ٹریفک جام کے سبب جھگڑے ہونے کے خدشات پیدا ہونے لگے ہیں۔م