شاہین باغ احتجاج کو پولیس نے ختم کروادیا

,

   

نئی دہلی 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس نے آج صبح شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ علاقہ میں گزشتہ 100 دنوں سے جاری احتجاج کے مقام کو زبردستی خالی کروادیا۔ پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر دہلی میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے اور دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے۔ اس لئے شاہین باغ میں احتجاج کرنے والوں کو ہٹا یا گیا ہے جہاں خواتین کی بڑی تعداد سی اے اے کیخلاف گزشتہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ سے دھرنے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر پولیس (ساؤتھ ایسٹ) آر پی مینا نے بتایا کہ شاہین باغ میں احتجاج کرنے والوں سے دہلی میں لاک ڈاؤن کے پیش نظر علاقہ کو خالی کرنے کی درخواست کی گئی۔ احتجاجیوں کے ایسا کرنے سے انکار پر کارروائی کی گئی اور علاقہ کو خالی کروادیا گیا ہے۔ پولیس نے چھ خواتین کے بشمول 9 افراد کو حراست میں لے کر قریبی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ شاہین باغ علاقہ میں تقریباً 50 احتجاجی اُس وقت موجود تھے جب علاقہ کو خالی کروانے کے لئے پولیس وہاں پہنچی تھی۔ بیشتر احتجاجیوں نے پولیس کی درخواست پر احتجاج ختم کردیا لیکن چند ایک نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جن کو حراست میں لیا گیا۔ ایک والینٹر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بتایا کہ کورونا وائرس وباء کی صورتحال قابو میں کرنے کے بعد احتجاج کے احیاء کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دفعہ 144 کے نفاذ اور اتوار کو جنتا کرفیو کے موقع پر خاتون احتجاجیوں نے صرف پانچ خواتین کے احتجاجی مقام پر رہنے کا فیصلہ کیا جبکہ دیگر نے ان خواتین سے اظہار یگانگت کی علامت کے طور پر اپنے چپل وہاں چھوڑ دیئے تھے۔ احتجاج کے مقام پر کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر حفظان صحت کے اُصولوں کی پابندی کی جارہی تھی۔ اس طرح دہلی کے دیگر مقامات جیسے جعفرآباد، ترکمان گیٹ، حوض رانی، جامعہ ملیہ وغیرہ سے بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ہٹادیا گیا۔