حیدرآباد 23 جون (سیاست نیوز) ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی پٹنہ میں ملاقات کے دوران ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤکی دہلی میں مرکزی وزراء سے ملاقات نے تلنگانہ کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ہندوستان بھر کی 18اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے بہار میں اجلاس نے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مخمصہ میں مبتلاء کیا ہوا ہے وہیں سربراہ بھارت راشٹرسمیتی و چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے فرزند کے ٹی راما راؤ کے دوروزہ دورۂ دہلی او راج ناتھ سنگھ کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے منصوبہ نے سیاسی جماعتوں بالخصوص تلنگانہ کے حالات میں ہلچل پیدا کردی ہے ۔وزیر کے ٹی راماراؤ کی مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کو سیاسی نوعیت کی ملاقات قرار دیا جا رہاہے کیونکہ بی آر ایس نے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ دنوں ناگپور کی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا اچھا دوست قرار دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان کی وزیر اعظم سے بات ہوتی رہتی ہے اور ان کے درمیان کئی امور پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ کے سی آر کے اس انکشاف کے بعد اپوزیشن اجلاس سے دور رہنے کے فیصلہ اور اسی وقت ان کے فرزند کی مرکزی وزراء سے ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں بی جے پی ۔ بی آر ایس میں دوستانہ تعلقات کی بحالی کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ چیف منسٹر کے سی آر کی دختر و ایم ایل سی کے کویتا کی شراب اسکام میں عدم گرفتاری کے بعد ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کے سی آر ‘ مرکزی حکومت سے مفاہمت کر رہے ہیں کیونکہ تشکیل تلنگانہ اور اقتدار پانے کے بعد سے اب تک بی آر ایس نے کئی معاملات میں راست یا بالواسطہ مدد کی ہے جس میں صدرجمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کا معاملہ ہویا دفعہ 370کی تنسیخ ہو۔ اس کے علاوہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے طلاق ثلاثہ بل کی رائے دہی میں حصہ نہ لیتے ہوئے اس قانون کو منظوری کروانے کی راہ ہموار کی تھی ۔ چندر شیکھر راؤ کی ناگپور پریس کانفرنس اور یکساں سیول کوڈ کے متعلق سوال کو نظرانداز کرنے اور وزیر اعظم سے ان کے بہترین دوستانہ تعلقات کا تذکرہ کئے جانے کے بعد سینئر سیاسی رہنما و قائد این سی پی مسٹر شردپوار نے کے چندر شیکھر راؤ کو بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم قرار دیا تھا ۔ تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت کی بی جے پی سے بڑھتی ہوئی قربتوں پر کہا جارہا ہے کہ کرناٹک انتخابات کے بعد کے سی آر نے بی جے پی کی بجائے کانگریس پر حملوں کے ذریعہ اپنے نظریات میں نمایاں تبدیلیوں کے اشارے دیئے تھے اور اب اپوزیش اجلاس سے دوری‘ کے ٹی آر کی مرکزی وزیر دفاع سے ملاقات اور چیف منسٹر کی جانب سے وزیر اعظم مودی سے دیرینہ رفاقت و بہترین تعلقات کا تذکرہ چہرے سے نقاب اتارنے لگا ہے۔م