مقدمات کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کیلئے دعاؤں کا اہتمام، مسجد اجالے شاہ میں مولانا نصیرالدین کا خطاب
حیدرآباد ۔ یکم ؍ فبروری (راست) بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں این پی آر، این آر سی جیسے کالے قوانین کے خلاف جاری پرامن جمہوری طرز کے احتجاجیوں پر ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے۔ احتجاج کیلئے جمع ہونے والے سینکڑوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے۔ پستول سے فائر کرکے ڈرایا جارہا ہے۔ غیرمہذب الفاظ سے احتجاج کی مذمت کی جارہی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ احتجاج شروع کرنے اس کو جاری رکھنے میں نمایاں رول ادا کرنے والے شرجیل امام کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے کیونکہ یہ ہونہار نوجوان مستقبل میں بھارت کے مسلم نوجوانوں کیلئے ایک بیباک لیڈر بن کر ابھر سکتا ہے۔ اس کی خودسپردگی، اس کی بہادری کی دلیل ہے۔ دہلی پولیس کیلئے یہ بات باعث شرم ہیکہ وہ جامعہ ملیہ کے اندر گھس کر طلباء و طالبات پر حملہ کرنے والوں کو تو ابھی تک گرفتار نہیں کرسکی جبکہ شرجیل امام کیلئے کئی ریاستوں کی خاک چھانتی رہی تھی۔ بیدر کرناٹک کے کسی اسکول میں اسٹیج کئے گئے 26 جنوری کے ڈرامہ کو بنیاد بناکر بلالحاظ مذہب و ملت تعلیمی خدمت انجام دینے والے ادارے شاہین گروپ پر غداری کا الزام لگا کر پوچھ تاچھ کرنے کا کیا جواز ہے جبکہ اسی کرناٹک کے ایک اسکول میں بابری مسجد کی مسماری کی پوری منظرکشی کی گئی جسے ریاستی گورنر نے بھی دیکھا اس پر کوئی مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا۔ مسلمان اس ملک کے غدار نہیں ہیں بلکہ غیرمسلموں میں ہی اکثر غداری کرتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کشمیر میں ایک ڈی ایس پی رنگے ہاتھوں پکڑا گیا مگر اس پر قوم خاموش ہے۔ ان واقعات سے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے، دوسرے درجہ کے شہری بننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مولانا نصیرالدین ناظم وحدت اسلامی تلنگانہ نے ان واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے جمعہ کے موقع پر مسجد اجالے شاہ ؒ میں شاہین گروپ اور شرجیل امام اور دوسرے اسی طرح کے مقدمات کا سامنا کرنے والوں کیلئے استقامت اور اللہ سے نصرت کی دعا کی۔ نیز ملک کے ان غیریقینی حالات میں رجوع الی اللہ کیلئے اجتماعی توبہ و استغفار کیلئے جمعہ ہفتہ کی شب 4:15 سے روانہ ایک ہفتہ تک نماز تہجد و قنوت نازلہ کا اہتمام مسجد اجالے شاہؒ، سعیدآباد میں کرنے کا اعلان کیا۔ خواتین کیلئے مسجد کی پہلی منزل مخصوص رہے گی۔