قاہرہ ۔ 14 اکٹوبر (ایجنسیز) مصر کے شہر شرم الشیخ میں دستخط کی جانے والی دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ میں جامع امن کے قیام کے عزم پر زور دیا گیا ہے اور اس میں غزہ میں پائے دار اور ہمہ گیر امن کی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔شرم الشیخ میں ہوئی امن کانفرنس میں اس دستاویز پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ترک صدر رجب طیب اردغان نے دستخط کیے۔دستاویز میں کہا گیا ہیکہ ہم ہر فرد کیلئے رواداری، احترام اور مساوی مواقع پر یقین رکھتے ہیں، اور یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ خطہ ایسا مقام بنے جہاں ہر شخص نسل، مذہب یا نسلی پس منظر سے قطع نظر امن، تحفظ اور اقتصادی خوش حالی کے خواب دیکھ سکے۔”دستخط کرنے والے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ “مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور مشترکہ خوش حالی کے ایک جامع تصور” کیلئے کوشاں ہیں، جو باہمی احترام اور مشترک تقدیر کے اصولوں پر مبنی ہے۔ دستاویز کے متن میں مزید کہا گیا اسی جذبے کے تحت ہم غزہ کی پٹی میں جامع اور پائے دار امن کے قیام میں حاصل ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں، ساتھ ہی اسرائیل اور اس کے علاقائی پڑوسیوں کے درمیان دوستانہ اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ ہم اس تاریخی موقع کو آگے بڑھانے، اسے محفوظ رکھنے اور ان بنیادوں کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں جن پر آنے والی نسلیں امن کے سائے میں ترقی کر سکیں۔ ہم اجتماعی طور پر ایک ایسے مستقبل کا عہد کرتے ہیں جو پائے دار امن سے عبارت ہو۔”امریکہ، مصر، ترکی اور قطر کے رہنماؤں نے پیر کے روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اپیل پر عمل میں آیا، جس کا مقصد جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کو ممکن بنانا تھا۔ ٹرمپ نے اس موقع کو “مشرقِ وسطیٰ کیلئے ایک عظیم دن” قرار دیا۔شرم الشیخ امن کانفرنس کی صدارت ٹرمپ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ مشترکہ طور پر کی، جس میں 31 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے رہنما اور نمائندے شریک ہوئے۔ سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے کانفرنس میں شرکت کی۔
سعودی عرب اور چین کی مشترکہ بحری مشق کا آغاز
ریاض، 14 اکتوبر (یو این آئی) سعودی عرب اور چین کی مشترکہ بحری مشق ‘بلیو سورڈ 2025’ کا آغاز ہوگیا ہے ۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق سعودی اور چینی بحریہ کے درمیان تیسری بحری مشقوں ک آغاز ہوگیا ہے ۔ اس بحری مشق کا مقصد دونوں ملکوں کی فورسز میں مہارت کا تبادلہ اور جنگی تیاریوں میں اضافہ ہے ۔