18 اگسٹ کو رسمی اعلان، ٹی آر ایس اور بی جے پی سے مقابلہ کیلئے خاتون امیدوار میدان میں
حیدرآباد۔/15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے حضورآباد ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی سے موثر طور پر مقابلہ کرنے کیلئے شعلہ بیان مقرر اور سابق وزیر کونڈہ سریکھا کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس سلسلہ میں ہائی کمان کی منظوری کے بعد 18 اگسٹ کو باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ حضورآباد ضمنی چناؤ ٹی آر ایس اور بی جے پی کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ ٹی آر ایس سے علحدگی اختیار کرنے والے سابق وزیر ایٹالہ راجندر بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ امکانی امیدوار بھی ہوسکتے ہیں۔ دونوں پارٹیوں نے اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے حالانکہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ حضورآباد میں کانگریس کے اہم قائد کوشک ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد پارٹی کا موقف کسی قدر کمزور ہوگیا اور وہاں کوئی ایسا مقبول چہرہ موجود نہیں جسے انتخابی میدان میں اُتارا جاسکے۔ کانگریس کیلئے انتخاب میں حصہ لینے سے زیادہ بہتر مظاہرہ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے اور صدر پردیش کانگریس کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد ریونت ریڈی کا یہ پہلا امتحان ہے۔ پارٹی کے سرکردہ قائدین نے امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں دو دن تک سرگرم مشاورت کی۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کی قیامگاہ پر صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، حضور آباد کے انچارج اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا ، سابق ایم ایل سی دیا ساگر نے دو دن تک حضورآباد کے پارٹی قائدین سے سرگرم مشاورت کی۔ اس کے علاوہ پردیش کانگریس اور سی ایل پی کے قائدین سے بات چیت کی گئی۔ مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں کونڈہ سریکھا سے بہتر کوئی امیدوار نہیں ہوسکتا۔ کونڈہ سریکھا اور ان کے شوہر کونڈہ مرلی کو طلب کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بات چیت کی گئی اور دونوں نے پارٹی قائدین کے فیصلہ کو قبول کرنے کا یقین دلایا۔ کونڈہ سریکھا نہ صرف خاتون بلکہ شعلہ بیان مقرر کی حیثیت سے انتخابی مہم میں نئی جان پیدا کرسکتی ہیں۔ وہ پانچ مرتبہ رکن اسمبلی اور ایک مرتبہ ریاستی وزیر رہ چکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حضورآباد کے 5 منڈلوں میں 2 منڈل متحدہ ورنگل ضلع کے ہیں جو سابقہ کملا پور اسمبلی حلقہ میں شامل تھے۔ حضورآباد چونکہ ورنگل سے متصل ہے لہذا ورنگل کے دونوں منڈلوں کے علاوہ ذات پات کی بنیاد پر بھی کونڈہ سریکھا اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ کونڈہ سریکھا پدماشالی طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ کونڈہ مرلی منورکاپو ہیں۔ حضورآباد میں ان دونوں طبقات کے ووٹرس کی تعداد علی الترتیب 28 اور 23 ہزار ہے۔ کانگریس کے روایتی ووٹرس کو ملا کر پارٹی بہتر مظاہرہ کے موقف میں ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کونڈہ سریکھا اور کونڈہ مرلی نے 18 اگسٹ کو نام کے اعلان کی سفارش کی ہے جو ان کے اعتبار سے متبرک دن ہے۔ ریونت ریڈی نے ہائی کمان کی منظوری کیلئے کونڈہ سریکھا کا نام روانہ کردیا ہے جس کی منظوری حاصل ہونا تقریباً طئے ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے چونکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے امیدوار مرد ہیں ایسے میں کانگریس کی بولڈ خاتون کونڈہ سریکھا خاتون رائے دہندوں کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں۔
