شمالی تلنگانہ کی 54 نشستیں فیصلہ کن، بی آر ایس اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر

   

مخالف حکومت لہر سے کے سی آر فکرمند، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی مہم سے کانگریس کو فائدہ،اقلیتوںکو بادشاہ گر کا موقف

حیدرآباد ۔27۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں آئندہ تشکیل حکومت کا انحصار شمالی تلنگانہ کی 54 نشستوں پر رہے گا۔ برسر اقتدار بی آر ایس اور مین اپوزیشن کانگریس نے شمالی تلنگانہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی تیار کی ہے۔ 2018 ء اسمبلی انتخابات میں شمالی تلنگانہ کے اضلاع کریم نگر، نظام آباد اور عادل آباد میں بی آر ایس کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن گزشتہ 4 برسوں میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی اور حکومت کے خلاف عوامی لہر نے چیف منسٹر کے سی آر کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ متحدہ ورنگل ، کریم نگر ، عادل آباد اور کھمم میں کامیابی کے ذریعہ کے سی آر تلنگانہ میں ہیٹ ٹرک کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن تمام اضلاع میں کانگریس پارٹی اہم رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے کرائے گئے مختلف سروے رپورٹ میں شمالی تلنگانہ میں بی آرا یس کا موقف کمزور دکھایا گیا ہے جس کے بعد سے کے سی آر نے انتخابی حکمت عملی کے ماہرین کو مذکورہ اضلاع پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے وجئے بھیری بس یاترا کے پہلے مرحلہ میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو مدعو کرتے ہوئے شمالی تلنگانہ میں مہم چلائی تھی ۔ بی جے پی نے بھی کریم نگر ، نظام آباد اور ورنگل میں پارٹی کیڈر کو متحرک کردیا ہے تاہم شمالی تلنگانہ میں راست مقابلہ بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔ متحدہ ورنگل ضلع میں 12 جبکہ متحدہ کریم نگر میں 13 اسمبلی نشستیں ہیں۔ عادل آباد ، کھمم اور نظام آباد میں اسمبلی نشستوںکی تعداد فی کس 10 ہے۔ 2018 ء اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس نے 54 کے منجملہ 30 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور یہی کامیابی تشکیل حکومت میں مددگار ثابت ہوئی۔ کانگریس اور بی جے پی کا شمالی تلنگانہ میں مظاہرہ کمزور رہا لیکن مجوزہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی منظر تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ کے سی آر کو یقین ہے کہ شمالی تلنگانہ میں دلت ، پسماندہ طبقات ، خواتین اور اقلیتیں بی آر ایس کی تائید کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کے سی آر نے شمالی تلنگانہ میں انتخابی مہم کو پہلے مرحلہ میں انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں رشوت ستانی اور بی آر ایس کے عوامی نمائندوں کی عدم کارکردگی نے کانگریس پارٹی کو عوام سے قریب ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کو یقین ہے کہ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی مسلسل مہم کے نتیجہ میں پارٹی کو خواتین ، دلتوں اور اقلیتوں کی مکمل تائید حاصل ہوگی۔ کانگریس نے 54 کے منجملہ 40 نشستوں پر اپنی طاقت جھونک دی ہے اور ہر حلقہ میں سروے کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مذکورہ اضلاع میں 2018 ء اسمبلی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے ارکان نے کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔ موجودہ حالات میں انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو عوامی مخالفت کا سامنا ہے۔ بی جے پی 2014 ء اور 2018 ء میں اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی لیکن 2019 ء لوک سبھا چناؤ میں غیر متوقع طورپر عادل آباد ، کریم نگر اور نظام آباد لوک سبھا نشستوں پر پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ شمالی تلنگانہ کے رائے دہندے کس پارٹی کی تائید کریں گے اور وہ تشکیل حکومت کے قریب پہنچ جائے گی۔