شمبھو سرحد جزوی طور پر کھولنے سپریم کورٹ کا حکم

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز پنجاب اور ہریانہ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اور پٹیالہ اور امبالا اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو حکم دیا کہ وہ ایمبولینس، بزرگ شہریوں، خواتین اور طلباء وطالبات کے آسانی سے گزرنے کے واسطے شمبھو سرحد کو جزوی طور پر کھولنے کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے ایک ہفتے کے اندر میٹنگ کرے ۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اجل بھوئیاں پر مشتمل بنچ نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف سے شمبھو بارڈر کی ناکہ بندی ہٹانے کیلئے دی گئی ہدایت کے خلاف ہریانہ حکومت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کی جانب سے غیرجانبدار ناموں کی تجویز کرنے کی کوششوں کی تعریف کی جنہیں کسانوں کے ساتھ بات چیت کیلئے کمیٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔قبل ازیں ہائی کورٹ نے ہریانہ حکومت کو اس سال فروری سے بند شمبھو سرحد پر رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ ناکہ بندی پنجاب سے ہریانہ اور دہلی تک احتجاج کیلئے پہنچنے والے کسانوں کو روکنے کیلئے کی گئی تھی۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔بنچ نے کہا کہ اگر دونوں فریق اس طرح کے طریقہ کار طے کرنے کے قابل ہیں تو انہیں اس عدالت کے کسی حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور فوری طور پر اس طرح کا حل نکالا جائے ۔ایڈوکیٹ جنرل گرومندر سنگھ کی طرف سے عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ناموں کا نوٹس لینے کے بعد بنچ نے کہا کہ وہ کمیٹی کی تشکیل اور اس کے مینڈیٹ کے بارے میں اگلی تاریخ کو تفصیلی حکم جاری کرے گی۔عدالت نے کیس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی۔