شمس آباد ایرپورٹ پر خصوصی حج ٹرمنل بھی برخواست!

   

موقوفہ اراضی پر تعمیر ایرپورٹ احاطہ میں مسجد کی تعمیر کا وعدہ بھی فراموش
حیدرآباد۔30۔مئی۔(سیاست نیوز) مسجد عمر فاروق ؓ کی شہادت اور سینکڑوں ایکڑ موقوفہ اراضی جس میں درگاہ حضرت بابا شرف الدین سہروردیؒ کی موقوفہ اراضی بھی شامل ہے کو حاصل کرتے ہوئے تعمیر کئے گئے شمس آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں مسجد کی تعمیر کا وعدہ تو حکومت نے فراموش کردیا لیکن اب اس ائیر پورٹ میں خصوصی حج ٹرمینل بھی باقی نہیں رہا۔ائیر پورٹ انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ عازمین حج کی روانگی دیگر عام مسافرین کے ساتھ عمل میں لائی جائے گی لیکن ان کے لئے 4 خصوصی کاؤنٹر انٹرنیشنل ٹرمنل میں فراہم کئے جائیں گے۔ راجیو گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے عازمین حج کا خصوصی ’حج ٹرمینل‘ برخواست کردیا گیا۔ حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہونے والے عازمین حج کے لئے شمس آباد ائیر پورٹ پر سال گذشتہ یہ کہتے ہوئے حج ٹرمینل کی خصوصی سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی کہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے توسیعی کام جاری ہیں اسی لئے سال 2022کے دوران حج ٹرمینل کی خصوصی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی لیکن اب حج 2023 میں بھی عازمین حج کو خصوصی ٹرمینل سے روانہ نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں انٹرنیشنل مسافرین کے ساتھ ہی روانہ کیا جائے گا۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافیوں اور انہیں نظرانداز کئے جانے کے معاملات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل کے چندر شیکھر راؤ نے نہ صرف مسلمانوں سے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا بلکہ لینکو ہلز موقوفہ اراضی کو ناجائز قبضہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کی پارٹی تلنگانہ راشٹر سمیتی عدالت سے رجوع ہوئی تھی اور شمس آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی پارکنگ میں مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں اس وقت کے رکن قانون ساز کونسل جناب محمد محمود علی نے وعدہ کیا تھا جو کہ ابھی ریاستی وزیر داخلہ ہیں ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد جس طرح منی کنڈہ جاگیر کے مقدمہ میں ریاست میں برسراقتدار بھارت راشٹر سمیتی حکومت نے مؤثر پیروی کرتے ہوئے وقف بورڈ کو شکست سے دو چار کیا اور لینکو ہلز کی موقوفہ اراضی کو ریاستی محکمہ مال کی اراضی قرار دینے میں کامیابی حاصل کی اس طرح شمس آباد ائیر پورٹ کی پارکنگ میں مسجد تو تعمیر نہیں ہوئی لیکن سال 2008سے قائم خصوصی حج ٹرمینل برخواست کردیا گیا۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاست میں مسلمانوں کو مختلف مقامات پر فراہم کی جانے والی خصوصی سہولتیں بتدریج ختم کی جانے لگی ہیں اور ان سہولتوں کو ختم کئے جانے پر ریاستی حکومت اور متعلقہ ادارۂ جات کی خاموشی سے یہ بات ثابت ہونے لگی ہے کہ بھارت راشٹر سمیتی (تلنگانہ راشٹرسمیتی) مسلمانوں سے خود کو دور رکھنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی اقلیتی اداروں بالخصوص حج کمیٹی کے امور سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بہ حیثیت چیف منسٹرانہوں نے آخری مرتبہ سال 2017 میں حج ہاؤز کا دورہ کرتے ہوئے عازمین حج کے قافلہ کو روانہ کو روانہ کیا تھا کیونکہ سال 2018میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہونے تھے اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس عازمین حج کو روانہ کرنے کے لئے حج ہاؤز پہنچ سکتے ہیں کیونکہ جاریہ سال بھی کسی بھی وقت تلنگانہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان ہوسکتا ہے۔تشکیل تلنگانہ سے قبل مسٹر این ۔چندرابابو نائیڈو‘ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی ‘ ڈاکٹر کے ۔روشیا اور مسٹر این۔کرن کمار ریڈی نے اپنے دور حکومت میں ہر سال عازمین حج کو روانہ کرنے کے لئے حج ہاؤز کا دورہ کیا تھا۔م