اسلام آباد: یہاں اعلان کیا گیا ہے کہ ایس سی او کے سربراہوں کا اگلا اجلاس پاکستان میں ہو گا، تو سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم مودی اس میں شریک ہوں گے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ‘بلاک’ کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گا۔ایک ایسے وقت جب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رہنماؤں نے آستانہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران (امریکہ کی قیادت والے) موجودہ عالمی نظام کو چیلنج کرنے کیلئے آواز اٹھائی ہے، پاکستان نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی ”بلاک” کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گا۔ آستانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں روس اور چین کے رہنماؤں نے ”زیادہ منصفانہ اور شفاف” عالمی نظام کا مطالبہ کیا۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں اس تاثر کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کسی بھی بلاک کا حصہ بننے کیلئے اس سکیورٹی کلب میں شامل ہوا ہے۔جمعرات کے روز دفتر خارجہ کی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان چین اور روس کے بلاک میں شامل ہو گا، تو دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا، ”سب سے پہلے تو میں یہ واضح کرنا چاہوں گی کہ پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ ہم کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں ہیں۔ ہم بلاک کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔
” واضح رہے کہ ایس سی او کی حالیہ اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ”بیرونی مداخلت کے خاتمے” کا مطالبہ کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی امریکہ ک طرف اشارہ کرتے ہوئے ”خطے میں بیرونی فوج کی موجودگی کو ختم” کرنے کیلئے ایک نئے ”یورو ایشیا سکیورٹی معاہدے” کی تجویز پیش کی ہے۔چین، روس، پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے دس ممالک ایس سی او کے اہم رکن ہیں، جسے امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے زور دے کر کہا کہ ”ہم تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کے ملکی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر اچھے تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ ”پاکستان کئی سالوں سے ایس سی او کا رکن ہے۔ یہ ایک کثیر الجہتی تنظیم ہے۔
