شوپیان کے اسکول پر سکیورٹی ایجنسیوں کی کڑی نظر

   

Ferty9 Clinic

مدرسہ کے 13 طلباء کی انتہاپسند گروپوں میں شمولیت کے بعد دیگر طلباء کیلئے پریشانیاں

سرینگر : جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں ایک مذہبی مدرسہ پر
تحقیقاتی ایجنسیوں کی کڑی نظر ہے ۔ اس مدرسہ کے 13 طلباء دہشت گرد گروپوں میں شامل ہونے کا پتہ چلا ہے ۔ مدرسہ کے طلباء میں سجاد بھٹ بھی شامل ہے جو پلواما میں فبروری 2019 ء کو سی آر پی ایف کے ایک قافلہ پر خودکش حملہ کا ملزم ہے ۔ اس حملہ میں 40 فوجی جوان ہلاک ہوئے تھے ۔ اس مدرسہ کے طلباء کا تعلق زیادہ تر کلگام ، پلوامہ اور اننت ناگ سے بتایا جاتا ہے ۔ انٹلیجنس ایجنسیاں ان علاقوں کو عسکریت پسندی کا گڑھ مانتی ہے ۔ مقامی نوجوانوں کو عسکری سرگرمیوں میں بھرتی کیلئے یہ علاقے بدنام ہیں ۔ یہاں سے مختلف دہشت گرد گروپوں کی جانب سے نوجوانوں کو اٹھالیا جاتا ہے اور انہیں عسکری تربیت دی جاتی ہے ۔ گزشتہ آرٹیکل 370 برخواست کرنے کے بعد سے کشمیر میں زیرتعلیم بیرونی ریاستوں جیسے اترپردیش ، کیرالا اور تلنگانہ کے طلباء کی تعداد کم ہوگئی ہے ۔ اس مدرسہ میں چونکہ طلباء کی تعداد کا تعلق شوپیان ، پلوامہ سے ہوتا ہے ۔ دہشت گردی کے نظریاتی تعلیم کے شبہ میں سکیورٹی فورس نے یہاں کے ہر طالبعلم پر کڑی نظر رکھی ہے ۔ گزشتہ /14 فبروری کو ہلاکت خیز حملہ کی تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اس مدرسہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم سجاد بھٹ بھی حملہ آوروں میں شامل تھا ۔