شکست کے باوجود بی آر ایس قائدین نے سبق نہیں سیکھا، غرور اور تکبر برقرار

   

کے سی آر کو مہیش کمار گوڑ کا کھلا مکتوب، 10 سالہ اقتدار کی بدعنوانیوں کو عوام بھولے نہیں ہیں، کانگریس کے ایک سالہ کارناموں کو پیش کیا

حیدرآباد۔/15 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کو کھلا مکتوب روانہ کرتے ہوئے گذشتہ ایک سال میں کانگریس حکومت کی کارکردگی، فلاحی و ترقیاتی اسکیمات کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں تلنگانہ پسماندگی کا شکار ہوگیا اور کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد عوام کی توقعات کی تکمیل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کی جانب سے کئے جارہے ترقیاتی اقدامات کو بی آر ایس قائدین برداشت نہیں کرپارہے ہیں اور حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ جذبہ کے نام پر دو مرتبہ بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا لیکن دونوں میعادوں میں عوام کی آنکھ میں آنسو دیکھے گئے۔ پانی، روزگار اور وسائل کے نام پر تلنگانہ تحریک چلائی گئی تھی اور اسی نعرہ کا استعمال کرتے ہوئے دس سال حکمرانی کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہریش راؤ نے پٹرول اور ماچس کے ذریعہ ڈرامہ کرتے ہوئے بھولے بھالے نوجوانوں کو خودکشی کرنے پر اُکسایا۔ کانگریس کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک سال میں 54 ہزار سے زائد سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔ تقررات میں تلنگانہ حکومت نے ملک میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران ہر گھر کو ایک روزگار فراہم کرنے کا کے سی آر نے وعدہ کیا تھا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے سی آر اور ان کے قریبی افراد کیلئے اے ٹی ایم میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ورنگل ڈیکلریشن پر عمل کرتے ہوئے کانگریس نے کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کرنے کیلئے 21000 کروڑ جاری کئے جس سے 25 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوا۔ خریف سیزن میں 66.76 لاکھ ایکر اراضی پر دھان کی 153 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار نے ملک میں تلنگانہ کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ 7 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس حکومت نے ریاست کی معاشی صورتحال کو کمزور کردیا۔ انہوں نے موسی ریور فرنٹ پراجکٹ میں بے قاعدگیوں سے متعلق بی آر ایس قائدین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کیلئے 150 کروڑ خرچ کئے گئے۔ اس کے علاوہ پراجکٹ پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جہد کاروں کی بی آر ایس دور حکومت میں توہین کی گئی ۔ دس سال میں تلنگانہ تلی مجسمہ کو قطعیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ دس سال تک ایک خاندان کی حکمرانی جاری رہی اور اقتدار سے محرومی کے باوجود غرور اور تکبر میں کمی نہیں آئی ہے۔1
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے شکست سے سبق نہیں سیکھا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ دس سالہ دور حکومت میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں پر عوام نے اقتدار سے محروم کرنے کا فیصلہ سنایا۔ مہیش کمار گوڑ نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ ہریش راؤ، کے ٹی آر اور کویتا کو حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات سے باز رکھیں۔ 1