افغانستان میں امریکہ کا واحد مقصد القاعدہ کا خاتمہ اور اسامہ بن لادن کو پکڑنا تھا اور اس میں ہم کامیاب ہوئے
امریکہ کی مزید نسلوں کو افغان خانہ جنگی میں لڑنے کے لئے نہیں بھیج سکتا
واشنگٹن : سقوط کابل کے ایک دن بعد ابھی امریکہ اور عالمی برادری سکتے میں ہی ہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجی انخلاء کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور شکست کی ذمہ داری افغان سیاسی قیادت اور فوج پر عائد کی ہے۔کابل کے صدارتی محل پر طالبان کے جنگجوؤں کے قبضے پر عالمی طاقتیں اب بھی صدمے میں ہیں۔ اب صرف دارالحکومت کا ہوائی اڈہ ہی امریکہ کے کنٹرول میں رہ گیا ہے۔ امریکہ ، جرمنی اور دیگر ملکوں کے فوجی طیارے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لوگوں کے انخلاء میں مصروف ہیں، جہاں سے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد غیر ملکی اور افغان شہری ملک سے کسی نہ کسی طرح نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس دوران عالمی رہنماؤں کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، طالبان کی مذمت اور طالبان کے متنازعہ نظریات کی تائید کرنے والوں کو تنبیہ سے متعلق بیانات سامنے آ رہے ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے سلسلے میں ان پر اور ان کی انتظامیہ پر ہونے والی شدید نکتہ چینی کا پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ افواج کی واپسی کے حوالے سے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان پر قائم رہنا ایک ’درست فیصلہ‘ تھا۔ بائیڈن نے کہا، ’’افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ درست تھا، فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں۔ میں جانتا ہوں اس فیصلے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنوں گا۔ بائیڈن کا مزید کہنا تھا، ’’بیس برس کے بعد میں سمجھ چکا ہوں کہ افواج کے انخلاء کے لیے اس سے بہتر کوئی اور وقت نہیں تھا۔جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے فیصلے پر مکمل طور پر قائم ہیں اور انہوں نے امریکیوں کے ساتھ کیا وعدہ پورا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے چار صدور افغانستان کی جنگ دیکھ چکے ہیں اور وہ یہ ذمہ داری پانچویں صدر کو منتقل نہیں کریں گے۔افغان فوج کو لڑنے کی ہمت نہ دے سکے، امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان کو تبدیل کرنا کبھی بھی امریکہ کا مشن نہیں تھا۔ ’’افغانستان میں ہمارا واحد اہم قومی مفاد آج بھی وہی ہے جو ہمیشہ رہا ہے۔ امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کی روک تھا۔ ہمارا مقصد القاعدہ کا خاتمہ اور اسامہ بن لادن کو پکڑنا تھا اور ہم اس میں کامیاب رہے۔جو بائیڈن نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کے لیے افغان قیادت پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر اشر ف غنی اور قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے طالبان کے ساتھ سیاسی تصفیے کے لیے ان کا مشورہ ماننے سے ’صاف انکار‘ کر دیا تھا۔امریکی صدر نے افغان فوج کی صلاحیتوں کی بھی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا،’’آپ کیا چاہتے ہیں امریکی نسلوں کی مزید بیٹے بیٹیوں کو افغانوں اور افغان خانہ جنگی میں لڑنے کے لیے بھیجوں؟ جب حالات یہ ہوں کہ افغان فوج خود نہیں لڑے گی۔ کیا ایسا کرنا درست ہو گا؟ آرلنگٹن کے قومی قبرستان میں ختم نہ ہونے والی کتبوں کی کتنی قطاریں بنیں گی؟۔