شہر حیدرآباد میں 8 جون سے آر ٹی سی بس خدمات کا احیاء

   

ماسک کا استعمال اور جسمانی فاصلہ لازمی ، بس اسٹاپس پر پولیس کے انتظامات ناگزیر
حیدرآباد۔3جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں 8جون سے بسیں چلائی جانے لگیں گی ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے شہر حیدرآباد میں 78 دنوں کے بعد بس خدمات کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ بس مسافرین کیلئے ٹی ایس آر ٹی سی کی جانب سے رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے اور ان کی پابندی کو لازمی قرار دیا جائے گا ۔ عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد میں بس میں سوار ہونے کے لئے ماسک کا لزوم اور بسوں میں سماجی فاصلہ کی برقراری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں بس خدمات کے آغاز کے باوجود شہر حیدرآباد میں بس خدمات شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور 27مئی کواس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ اضلاع سے پہنچنے والی بسوں کو املی بن بس اسٹیشن تک آنے کی اجازت دی جائے۔ ملک بھر میں رات کے اوقات میں کرفیو جاری ہے لیکن اس میں کئی رعایتیں موجود ہیں اور املی بن کے علاوہ جوبلی بس اسٹیشن پہنچنے والے مسافرین کو اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے ٹکٹ دکھا کر سفر کی اجازت فراہم کی گئی ہے اور بسوں کو کرفیو سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ دونوں شہروں میں بس خدمات کی بحالی کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ بسوں میں محدود تعداد میں عوام کو سفر کی اجازت حاصل رہے گی اور گہما گہمی کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیدارو ں کا کہناہے کہ جو لوگ بسوں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں ان کے سفر کو آسان اور محفوظ بنانے کیلئے متعدد اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اوراضلاع میں بس خدمات کی بحالی سے جو تجربات سامنے آئے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہر میں بس خدمات بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی جانب بس خدمات کے احیاء کے فیصلہ کے متعلق ملازمین کا کہناہے کہ اب جبکہ ریاستی حکومت نے شہر میں بس خدمات کی بحالی کا فیصلہ کرلیا ہے تو ایسی صورت میںشہر کے تمام بس اسٹاپس پر سماجی فاصلہ کے احکام پر عمل آوری کیلئے محکمہ پولیس کے اہلکاروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا جانا چاہئے کیونکہ بس اسٹاپ پر موجود ہجوم میں اگر کوئی متاثرہ شخص بس میں سوار ہوتا ہے تو اس کا شکار بسوں میں سوار دیگر مسافرین بھی ہوسکتے ہیں اسی لئے بس اسٹاپ پرصفائی کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری اور ماسک کے استعمال کے لزوم پر پابندی کروائی جانا ناگزیر ہے۔