سدی پیٹ ، کریم نگر ، محبوب نگر اور ورنگل کے عوامی نمائندہ ووٹرس کے ساتھ
حیدرآباد۔ سی ٹی اسکان کی قیمتوں کے تعین میں وزراء کے کردار نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ لوگ جنہیں منتخب کرتے ہیں انہیں وہی ملتا ہے۔ ضلع سدی پیٹ میں ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤنے ڈائیگناسٹک مراکز کو اس بات کا پابند بنایا کہ کسی بھی طرح کے سی ٹی اسکان کیلئے 2000 روپئے سے زائد وصول نہ کئے جائیں اور ان کے ان احکامات کے ساتھ ہی دیگر کئی وزراء نے بھی اپنے اپنے اضلاع میں 2000 اور اس سے بھی کم میں سی ٹی اسکان کی سہولت کی فراہمی کے لئے ڈائیگناسٹک سنٹرس کو پابند بنانا شروع کردیا ہے اور اس کا اثر کریم نگر ‘ ورنگل ‘ محبوب نگر کے علاوہ کئی اضلاع میں دیکھا جانے لگا ہے لیکن شہر حیدرآباد میں اب بھی ایچ آر سی ٹی کیلئے 4500 سے 6500 روپئے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔ ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ کی جانب سے سدی پیٹ میں 2000 میں سی ٹی اسکان کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیابی کے ساتھ ہی کریم نگر میں ریاستی وزیر جی کملاکر نے اپنے ضلع میں بھی سی ٹی اسکان کی قیمتوں کو 2000 تک رکھنے کی تاکید کردی اور اسی طرح مسٹر ای دیاکر راؤ ریاستی وزیر نے اپنے ضلع ورنگل میں بھی ایچ آر سی ٹی کی قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایا ت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سی ٹی اسکان کیلئے 2000 سے زیادہ وصول کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔ ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ اور ان کے پھیپڑوں کے متاثرہونے کی جانچ کیلئے ایچ آرسی ٹی اسکان لازمی کروایا جارہا ہے اور ایچ آرسی ٹی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تمام وزراء کو اپنے اپنے اضلاع میں اسکان کی قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات کویقینی بنانے کی تاکید کی جس پر عمل کیا جانے لگا ہے۔ ریاستی وزیر مسٹر سرینواس گوڑنے اپنے ضلع محبوب نگر میں ہدایا ت جاری کی کہ ان کے ضلع میں 1999 میں ایچ آرسی ٹی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں اور اگر کسی مریض کو ایچ آر سی ٹی کی فلم اور ویڈیو چاہئے تو اس سے 2790 روپئے وصول کئے جائیں ۔ ریاستی وزراء کی جانب سے اپنے اپنے علاقہ ‘ حلقہ اورضلع کے عوام کے لئے سی ٹی اسکان کی قیمت میں نصف سے زیادہ کمی لائی جاچکی ہے لیکن شہر حیدرآباد کے عوام اب تک بھی اس طرح کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست گیر سطح پر قیمتوں کے تعین کے سلسلہ میں احکام بھی جاری کئے جاسکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ جتنے طاقتور قائدین ہیں وہ اپنے علاقوں میں اپنے اثر کا استعمال کرتے ہوئے اپنے رائے دہندوں کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔