O فتح اللہ گوڑہ :
پیپلز فار انیملس ( کاپرا )
O کے پی ایچ بی ، سری لنگم پلی :
بلیو کراس حیدرآباد
( سیری لنگم پلی )
O پٹیل نگر، خیریت آباد :
نوودیا انیمل ویلفیر سوسائٹی
( مہدی پٹنم )
O چوڑی بازار ، چارمینار :
انیمل ویلفیر سوسائٹی
( ملک پیٹ )
O مہادیو پور، کوکٹ پلی اینڈ سکندرآباد :
ویٹس سوسائٹی فار انیمل ویلفیر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ( الوال )
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پانچ میونسپل سرکلس میں کارپوریشن کے علاوہ پانچ این جی اوز کو جانوروں کی پیدائش کے عمل پر کنٹرول کرنے اور آوارہ کتوں کو نس بندی کا ٹیکہ لگانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پانچ میونسپل سرکلس میں کاپرا، سری لنگم پلی، ملک پیٹ، مہدی پٹنم اور الوال شامل ہیں۔ ایک پائیلٹ پراجکٹ کے تحت پانچ این جی اوز شہر میں آوارہ کتوں کے اسٹریلائزیشن این رابیس یعنی کتوں کے کاٹنے پر انجیکشن کی فراہمی اور ان کی صحت سے متعلق دیگر اُمور پر کام کریں گے۔ میونسپل کارپوریشن نے این جی اوز کے ساتھ معاہدہ پر دستخط بھی کئے ہیں اور بعض نے اپنا کام شروع بھی کردیا ہے۔ کارپوریشن نے جی ایچ ایم سی حدود میں وارڈس کے مطابق صد فیصد اسٹریلائزیشن کو یقینی بنانے کے حصہ کے طور پر کام کیا ہے۔ علاوہ امیں جی ایچ ایم سی شہر میں آوارہ کتوں کو پکڑنے اور اسٹریلائزیشن اور ویکسینیشن کا کام جاری رکھے گا۔ این جی اوز کو کتے پکڑنے، ان کی صحت کی جانچ کرنے ، اسٹریلائزیشن اینڈ رابیس اور دیگر امور کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ این جی اوز اپنے عملہ کو ان امور کے لئے تعینات کرے گا جبکہ ان کی ذاتی گاڑیوں اور ادویات کا استعمال کیا جائے گا۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے ایک کتے کے اسٹریلائزیشن، ویکسینیشن اور دیگر کاموں کے لئے 1,500 روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے چیف ویٹرنری آفیسر عبدالوکیل نے بتایا کہ ان امور کی انجام دہی کے لئے انیمل کیئر سنٹرس میں جگہ فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بازآبادکاری کے بشمول پانچ دنوں میں تمام امور کی تکمیل کے بعد کتوں کو ان ہی بستیوں اور مقامات پر چھوڑ دیا جائے گا جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔ عبدالوکیل نے مزید بتایا کہ یہ سارے عمل کی این جی اوز کی جانب سے تصویر کشی کی جائے گی۔ ڈیٹا کی برقراری اور اس کام میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ایک ایپ بھی تیار کیا جارہا ہے جو اندرون ایک ہفتہ کام شروع کردے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام این جی اوز انیمل ویلفیر بورڈ آف انڈیا کے مسلمہ ہیں۔ این جی اوز کی کارکردگی کی بنیاد پر مستقبل میں ان کو مزید سرکلس کی ذمہ داری دی جائے گی۔