شہر میں بھاری ٹریفک سے عوام کو مشکلات کا سامنا

   

نرمی کے اوقات میں اختتام سے عین قبل ٹریفک جام، پولیس کے چالانات جاری
حیدرآباد: شہر میں لاک ڈاؤن کے نرمی کے اوقات کے دوران سڑکوں پر بھاری ٹریفک عوام کیلئے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ حکومت نے صبح 6 تا 1 بجے دن تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جبکہ 2 بجے تک مکانات واپسی کا وقت ہے ۔ سرکاری دفاتر اور کاروباری اداروں کے بند ہوتے ہی اہم شاہراہوں پر غیر معمولی ٹریفک دیکھی جارہی ہے ۔ شہر کے مرکزی مقامات پر ٹریفک پولیس کو صورتحال سے نمٹنے میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ نہ صرف نئے شہر بلکہ پرانے شہر کے تجارتی علاقوں میں 2 بجے تک بھی ٹریفک کا بہاؤ رہتا ہے۔ 2 بجے کے بعد پولیس کی گاڑیوں کی تلاشی اور چالانات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ عوام کو شکایت ہے کہ انہیں دور دراز سے مکانات واپس ہونے میں ٹریفک سے دشواری ہو رہی ہے لیکن پولیس کسی عذر کو تسلیم کرنے تیار نہیں ۔ دوپہر 12 بجے سے ٹریفک کے بہاؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک بجے کئی علاقوں میں ٹریفک جام رہتی ہے۔ دکانات بند کرنے کے بعد تاجرین اور سرکاری ملازمین کو گھر واپسی میں تاخیر ہورہی ہے۔ معظم جاہی مارکٹ ، کوٹھی ، ملک پیٹ ، دلسکھ نگر ، نامپلی ، مہدی پٹنم ، امیر پیٹ ، کوکٹ پلی ، ہائی ٹیک سٹی ، ٹولی چوکی کے علاوہ پرانے شہر کے علاقوں منڈی میر عالم ، شاہ علی بنڈہ ، بہادر پورہ اور فلک نما میں آخری گھنٹہ میں غیر معمولی ٹریفک ہے۔ آر ٹی سی بسوں کی ڈپوز واپسی کیلئے کئی علاقوں میں قطار دیکھی گئی جس سے ٹریفک میں خلل پڑ رہا ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ بسوں کو واپسی کیلئے 2 بجے کے بعد کا وقت مقرر کیا جائے تاکہ عوام کو سہولت ہو۔ پولیس کی جانب سے قائم چیک پوسٹ بھی ٹریفک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔ کئی مقامات پر ٹریفک اور لاء اینڈ آرڈر پولیس نرمی کے اوقات میں بھی عوام کو ماسک اور ہیلمٹ نہ ہونے پر چالان کر رہی ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کو نرمی کے اوقات میں توسیع کرنا چاہئے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوسکے۔