بعض ڈاکٹرس کا پریکٹس کیلئے رجسٹریشن کروانے سے گریز ۔ سروے میں انکشافات
حیدرآباد۔21فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں غیر لائسنس یافتہ ڈاکٹرس اور لائسنس کی معیاد مکمل ہونے کے باوجود پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرس کے علاوہ فرضی ڈاکٹرس کی بہتات ہونے لگی ہے اور ضلع حیدرآبادمیں ڈاکٹرس کی آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ ضلع کلکٹریٹ حیدرآباد کے حدود میں جملہ زائد از 2000 غیر رجسٹرڈڈاکٹرس ہیں۔تلنگانہ میڈیکل کونسل ذرائع کے مطابق ریاست میں مجموعی اعتبار سے 45ہزار ڈاکٹرس برسرکار ہیں جن میں 18 ہزار ڈاکٹرس حیدرآباد میں پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اگسٹ 2025 تا فروری 2026 سرکردہ عہدیداروں کی نگرانی میں کئے گئے سروے اور آڈٹ کے انکشافات کی بنیاد پر ضلع کلکٹریٹ نے دونوں شہروںمیں زائد از 400 کلینکس کو وجہ نمائی نوٹس جاری کرنے کے علاوہ ایسے ڈاکٹرس کی نشاندہی کی جو کہ طبی قابلیت یا ڈاکٹر نہ ہوتے ہوئے بھی پریکٹس کرر ہے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ 2ہزار سے زائد ایم بی بی ایس ڈاکٹرس جو شہر میں موجود ہیں لیکن پریکٹس کیلئے انہوں نے اپنا رجسٹریشن نہیں کروایا لیکن ان میں بیشتر پریکٹس کر رہے ہیں۔محکمہ صحت کے عہدیداروں کی نگرانی میں شہر میں چلائے جانے والے کلینکس ‘ دواخانوں اور نرسنگ ہومس کی مجموعی تعداد جو کہ 4000 سے زیادہ ہے ان کی آڈٹ کے دوران 224 ایسے دواخانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ تلنگانہ میڈیکل کونسل کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں جن کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ صحت کی رپورٹ کی بنیاد پر ضلع کلکٹر نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرکے طبی تعلیم نہ رکھتے ہوئے خود کو ڈاکٹر کے طور پر پیش کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات کے اندراج کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انتظامی امور سے متعلق رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نوٹس وجہ نمائی جاری کرکے انہیں وضاحت کا موقع دیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ آڈٹ کے دوران پریکٹس کیلئے رجسٹریشن نہ کروانے والے‘ رجسٹریشن کی تجدید نہ کروانے والے اور گذشتہ 5برسوں کے دوران رجسٹریشن یا لائسنس کی تجدید نہ کرنے والوں کی علحدہ فہرست تیار کی گئی ہیں۔3
تاکہ دونوں شہروں میں موجود ایم بی بی ایس ڈاکٹرس کی مصروفیات اور ان کی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات حاصل کی جاسکیں اور پتہ لگایا جاسکے کہ کیوں پریکٹس سے گریز کر رہے ہیں یا لائسنس کی تجدید نہیں کروارہے ہیں۔3