عہدیداروں کا اعتراف سے گریز ۔ مرمت اور دیگر بہانوں سے ٹالنے کی حکمت عملی پر عمل
حیدرآباد۔8مئی(سیاست نیوز)شہر میں غیر معلنہ برقی کٹوتی کا آغاز ہوچکا ہے اور ماہ جون کے وسط تک غیر معلنہ برقی کٹوتی کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ماہ مئی میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے سبب برقی کھپت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔پرانے شہر کے علاقوں میں یومیہ زائد از تین گھنٹہ برقی سربراہی منقطع کی جانے لگی ہے اور موسم گرما کی شدت میں اضافہ کے بعد محکمہ برقی کے اقدامات سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ دونوں شہروں میںگذشتہ ایک ہفتہ سے روزانہ مختلف اوقات کارمیں 24 گھنٹوں میں 3 گھنٹے سے زائد سربراہی منقطع کی جا نے لگی ہے اور دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ مرمتی کاموں کے سبب سربراہی منقطع کی گئی ہے۔ عہدیداروں سے دریافت کرنے پر ان کا کہناہے کہ برقی کی طلب میں اضافہ اور ٹرانسفارمرس پر اضافی بوجھ کے سبب بار بار برقی منقطع ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔عہدیداروں کی جانب سے غیر معلنہ برقی کٹوتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ محکمہ برقی کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر وہ اندرون 30 منٹ برقی بحالی کے اقدامات کر رہا ہے اگر غیر معلنہ برقی کٹوتی کی جارہی ہوتی تو کم از کم ایک گھنٹہ سربراہی منقطع رکھنے کے اقدامات کئے جاتے۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں چندرائن گٹہ‘ یاقوت پورہ‘ منڈی میر عالم‘ چنچل گوڑہ ‘ دبیر پورہ‘ مادننا پیٹ ‘ عیدی بازار‘ سلطان شاہی ‘ شاہ علی بنڈہ ‘ فلک نما‘ مصری گنج کے علاوہ نئے شہر کے علاقوں آغاپورہ‘ نامپلی ‘ بنجارہ ہلز‘ مانصاحب ٹینک‘ فرسٹ لانسرز‘ محمدی لائن‘ ٹولی چوکی ‘ مہدی پٹنم‘ آصف نگراور دیگر علاقوں میں بھی روزانہ برقی سربراہی میں مختلف اوقات کارمیں برقی سربراہی میں خلل اور برقی سربراہی منقطع ہونے کی شکایات ہیں۔ عہدیداروں کے دعوؤں کے مطابق حکومت نے ریاست میں بلاوقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے ہدایات جاری کی ہیں لیکن شہر کے مصروف اور کثیر آبادی علاقو ںمیں برقی کٹوتی کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اضلاع میں برقی سربراہی کی صورتحال کیا ہے!