شہر میں لائسنس کا حصول مشکل ‘ آر ٹی اے دفاتر میں عملہ کی قلت

   

درمیانی افراد کو بھاری رقومات ادا کرتے ہوئے سلاٹس بک کرنے میں آسانی

حیدرآباد 19 فروری ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پاسپورٹ بنانا آسان ہے اور گاڑی چلانے لائسنس بنانا مشکل ہونے لگا ہے کیونکہ پاسپورٹ درخواست کے ادخال کیلئے وقت حاصل کرنا کوئی مشکل بات نہیں رہی لیکن آرٹی اے میں لائسنس کیلئے درخواست داخل کرنے شہریوں کو زائد از 4ہفتہ کا وقت لگنے لگا ہے۔دونوں شہروںمیں موجود آرٹی اے دفاترمیں عملہ کی قلت نے شہریوں کی مشکلات کی اضافہ کردیا اور ٹریفک پولیس کیلئے من مانی کی راہ ہموار کررکھی ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کی جانب سے لرننگ لائسنس کی اجرائی اور گاڑیوں کے رجسٹریشن کے بعد کارڈس یا نمبر پلیٹس کی تنصیب میں تاخیر کے نتیجہ میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر میں آرٹی اے دفاتر میں لرننگ لائسنس کیلئے وقت حاصل کرنے والوں کیلئے آئندہ ماہ10 مارچ کے بعد وقت دستیاب ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ آرٹی اے دفاتر میں عملہ کی قلت سے بیشتر لرننگ لائسنس کی اجرائی کرنے والے آرٹی اے دفاتر سے یومیہ اپوائنٹمنٹس میں نصف تک کی کمی لائی گئی ہے کیونکہ تکنیکی عملہ نہ ہونے کے نتیجہ میں عہدیداروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایا گیا کہ ملک پیٹ‘ ناگول‘ بندلہ گوڑہ ‘ کونڈا پور‘ میڑچل ‘ ابراہیم پٹنم ‘ ترملگیری ‘ منی کنڈہ اور ٹولی چوکی میں آر ٹی اے دفاتر میں روزانہ لرننگ لائسنس کیلئے جو وقت دیئے جاتے تھے وہ 200 سے تجاوز کیا کرتے تھے اور خیریت آباد آرٹی اے دفتر میں بھی زائد از 100 درخواست گذاروں کو وقت فراہم کیا جاتا تھا لیکن اب یہ تعداد 60تا70 کے درمیان ہوگئی ہے حالانکہ حکومت کے اقدامات کے مطابق لرننگ لائسنس کی اجرائی کیلئے آن لائن درخواست کا نظام شروع کیا گیا اس کے باوجود وقت نہ ملنے اور سلاٹس نہ ہونے سے درخواست گذاروں کو درمیانی افراد کی مدد حاصل کرکے اپنے لرننگ لائسنس کیلئے بھاری رشوت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔بعض افراد نے بتایا کہ آن لائن سلاٹس نہ ملنے کی شکایات کے بعد جب وہ کافی انتظار کرتے رہے اور آرٹی اے دفاتر کے قریب درمیانی افراد سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ درمیانی افراد کے ذریعہ بہ آسانی یہ سلاٹس بک کروائے جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح نمبر پلیٹس کی تیاری میں تاخیر اور گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈس کی اجرائی میں تاخیر کے سبب شہری جو گاڑی کے نمبر کا انتظا ر کر رہے ہیں انہیں غیر ضروری ٹریفک چالانات ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔3